Recitation

Next: 4_91


Arabic

إِلَّا ٱلَّذِينَ يَصِلُونَ إِلَىٰ قَوۡمِۭ بَيۡنَكُمۡ وَبَيۡنَهُم مِّيثَٰقٌ أَوۡ جَآءُوكُمۡ حَصِرَتۡ صُدُورُهُمۡ أَن يُقَٰتِلُوكُمۡ أَوۡ يُقَٰتِلُواْ قَوۡمَهُمۡۚ وَلَوۡ شَآءَ ٱللَّهُ لَسَلَّطَهُمۡ عَلَيۡكُمۡ فَلَقَٰتَلُوكُمۡۚ فَإِنِ ٱعۡتَزَلُوكُمۡ فَلَمۡ يُقَٰتِلُوكُمۡ وَأَلۡقَوۡاْ إِلَيۡكُمُ ٱلسَّلَمَ فَمَا جَعَلَ ٱللَّهُ لَكُمۡ عَلَيۡهِمۡ سَبِيلٗا


Urdu

البتہ و ہ منافق اس حکم سے مستثنیٰ ہیں جو کسی ایسی قوم سے جا ملیں جس کے ساتھ تمہارا معاہدہ ہے اسی طرح وہ منافق بھی مستثنیٰ ہیں جو تمہارے پاس آتے ہیں اور لڑائی سے دل برداشتہ ہیں، نہ تم سے لڑنا چاہتے ہیں نہ اپنی قوم سے اللہ چاہتا تو ان کو تم پر مسلط کر دیتا اور وہ بھی تم سے لڑتے لہٰذا اگر وہ تم سے کنارہ کش ہو جائیں اور لڑنے سے باز رہیں اور تمہاری طرف صلح و آشتی کا ہاتھ بڑھائیں تو اللہ نے تمہارے لیے ان پر دست درازی کی کوئی سبیل نہیں رکھی ہے


English

Except for those who take refuge with a people between yourselves and whom is a treaty or those who come to you, their hearts strained at [the prospect of] fighting you or fighting their own people. And if Allah had willed, He could have given them power over you, and they would have fought you. So if they remove themselves from you and do not fight you and offer you peace, then Allah has not made for you a cause [for fighting] against them


Tafsir — Bayan ul Quran

آدمی جب اللہ کے دین کو اختیار کرتا ہے تو اس کے بعد اس کی زندگی میں بار بار ایسے مرحلے آتے ہیں جہاں یہ جانچ ہوتی ہے کہ وہ اپنے فیصلہ میں سنجیدہ ہے یا نہیں۔ اسی سلسلے کا ایک امتحان ’’ہجرت‘‘ ہے۔ یعنی دین کی راہ میں جب دنیا کے فائدے اور مصلحتیں حائل نظر آئیں تو فائدوں اور مصلحتوں کو چھوڑ کر اللہ کی طرف بڑھ جانا۔ حتی کہ اگر رشتہ دار اور گھر بار کو چھوڑنے کی ضرورت پیش آئے تو اس کو بھی چھوڑ دینا۔ ایسا نازک موقع پیش آنے کی صورت میں اگر ایسا ہو کہ آدمی اپنے فائدوں اور مصلحتوں کو نظر انداز کرکے حق کی طرف بڑھے تو اس نے حق کے ساتھ اپنے قلبی تعلق کو پختہ کیا۔ اس کے برعکس، اگر ایسا ہو کہ ایسے موقع پر آدمی اپنے فائدوں اور مصلحتوں سے لپٹا رہے تو اس نے حق کے ساتھ اپنے قلبی تعلق کو کمزور کیا۔ جو شخص پہلی راہ پر چلے اس کے اندر حق کی مزید قبولیت کا مادہ پیدا ہوتا ہے، وہ برابر حق کی طرف بڑھتا رہتا ہے۔ اور جو شخص دوسری راہ اختیار کرے اس کے اندر حق کی قبولیت کا مادہ گھٹتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اتنا بے حس ہوجاتا ہے کہ اس کے اندر حق کو قبول کرنے کی صلاحیت باقی نہیں رہتی۔ جب دین کے سخت تقاضے سامنے آتے ہیں تو لوگوں میں مختلف گروہ بن جاتے ہیں۔ کوئی مخلصین کا ہوتا ہے اور کوئی مخالفین کا۔ اور کچھ ایسے لوگوں کا جو ظاہر میں حق سے قریب مگر اندر سے اس سے دور ہوتے ہیں۔ ایسی حالت میں ضروری ہے کہ اہلِ ایمان ہر ایک سے ا س کے حسب حال معاملہ کریں۔ وہ فتنہ کے استیصال میں سخت اور اخلاقی ذمہ داریوں کو نبھانے میں نرم ہوں۔ وہ کمزوروں کے ساتھ رعایت کا سلوک کریں۔ دوسروں سے متاثر ہونے کے بجائے خود ان کو متاثر کرنے کی کوشش کریں۔ کسی کو اگر اللہ خاموش کرکے بٹھا دے تو اس سے بلا ضرورت لڑائی نہ چھیڑیں۔


Connections

  • Previous: 4_89
  • Next: 4_91
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes