Recitation
Next: 36_72
Arabic
أَوَلَمۡ يَرَوۡاْ أَنَّا خَلَقۡنَا لَهُم مِّمَّا عَمِلَتۡ أَيۡدِينَآ أَنۡعَٰمٗا فَهُمۡ لَهَا مَٰلِكُونَ
Urdu
کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں ہیں کہ ہم نے اپنے ہاتھوں کی بنائی ہوئی چیزوں میں سے اِن کے لیے مویشی پیدا کیے اور اب یہ ان کے مالک ہیں
English
Do they not see that We have created for them from what Our hands have made, grazing livestock, and [then] they are their owners
Tafsir — Bayan ul Quran
مویشی جانور ایک قسم کے زندہ علامت ہیں جو بتاتے ہیں کہ مادی دنیا کو اس کے بنانے والے نے اس طرح بنایا ہے کہ انسان اس کو مسخر کرکے اس کو استعمال کرسکے۔ مادی دنیا کی اسی صلاحیت کے اوپر انسانی تہذیب کی پوری عمارت قائم ہے۔ اگر گھوڑے اور بیل میں بھی وہی وحشیانہ مزاج ہو جو ریچھ اور بھیڑئے میں ہوتاہے یا لوہا اور پٹرول اسی طرح انسان کے قابوسے باہرہوں جس طرح زمین کے اندر کا آتش فشانی مادہ انسان کے قابو سے باہر ہے تو تہذیبِ انسانی کا ارتقاء ناممکن ہوجائے۔ جس خالق نے یہ عظیم احسانات کيے ہیں، انسان کو چاہيے تھا کہ وہ اسی کاشکر کرے اور اسی کا عبادت گزار بنے۔ مگر وہ دوسروں کو اپنامعبود بناتا ہے،اور جب اس کو نصیحت کی جائے تو وہ اس پر دھیان نہیں دیتا۔ یہ بلاشبہ سب سے بڑی سرکشی ہے جس کے انجام سے بچنا کسی کےلیے ممکن نہیں۔