Recitation

Next: 34_37


Arabic

قُلۡ إِنَّ رَبِّي يَبۡسُطُ ٱلرِّزۡقَ لِمَن يَشَآءُ وَيَقۡدِرُ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعۡلَمُونَ


Urdu

اے نبیؐ، اِن سے کہو میرا رب جسے چاہتا ہے کشادہ رزق دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے نپا تلا عطا کرتا ہے، مگر اکثر لوگ اس کی حقیقت نہیں جانتے


English

Say, “Indeed, my Lord extends provision for whom He wills and restricts [it], but most of the people do not know


Tafsir — Bayan ul Quran

جن لوگوں کے پاس قوت اور مال آجائے ان کو موجودہ دنیا میں بڑائی کا مقام حاصل ہو جاتا ہے۔ یہ چیز ان کے اندر جھوٹا اعتماد پیدا کردیتی ہے۔ ایسے لوگوں کو جب آخرت سے ڈرایا جاتاہے تو وہ اس کو اہمیت نہیں دے پاتے۔ ان کو یقین نہیں آتا کہ دنیا میں جب خدا نے ان کو عزت دی ہے تو آخرت میں وہ انھیں بے عزت کردے گا۔ یہی جھوٹا اعتماد ہر دور کے بڑوں کےلیے دعوت حق کو نہ ماننے کا سب سے بڑا سبب رہا ہے۔ اور وقت کے بڑے لوگ جب ایک چیز کو حقیر کردیں تو چھوٹے لوگ بھی اس کو حقیر سمجھ لیتے ہیں۔ اس طرح خواص اور عوام دونوں حق کو قبول کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں۔ دنیا کا مال واسباب امتحان ہے، نہ کہ انعام۔ دنیا کے مال واسباب کی زیادتی نہ کسی آدمی کے مقرب ہونے کی علامت ہے اور نہ اس کی کمی اس کے غیر مقرب ہونے کی۔ اللہ کے یہاں قربت کا مقام اسی شخص کےلیے ہے جو اس بات کا ثبوت دے کہ جو کچھ اس كو ديا گيا تھا اس میں وہ خدا کی یادوں کے ساتھ جیا اور خدا کی مقرر کی ہوئی حدوں کا اپنے آپ کو پابند رکھا۔ یہی لوگ ہیں جو آخرت میں خدا کے ابدی انعامات کے مستحق قرار دئے جائیں گے۔


Connections

  • Previous: 34_35
  • Next: 34_37
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes