Recitation
Next: 34_36
Arabic
وَقَالُواْ نَحۡنُ أَكۡثَرُ أَمۡوَٰلٗا وَأَوۡلَٰدٗا وَمَا نَحۡنُ بِمُعَذَّبِينَ
Urdu
انہیں نے ہمیشہ یہی کہا کہ ہم تم سے زیادہ مال اولاد رکھتے ہیں اور ہم ہرگز سزا پانے والے نہیں ہیں
English
And they said, “We are more [than the believers] in wealth and children, and we are not to be punished
Tafsir — Bayan ul Quran
جن لوگوں کے پاس قوت اور مال آجائے ان کو موجودہ دنیا میں بڑائی کا مقام حاصل ہو جاتا ہے۔ یہ چیز ان کے اندر جھوٹا اعتماد پیدا کردیتی ہے۔ ایسے لوگوں کو جب آخرت سے ڈرایا جاتاہے تو وہ اس کو اہمیت نہیں دے پاتے۔ ان کو یقین نہیں آتا کہ دنیا میں جب خدا نے ان کو عزت دی ہے تو آخرت میں وہ انھیں بے عزت کردے گا۔ یہی جھوٹا اعتماد ہر دور کے بڑوں کےلیے دعوت حق کو نہ ماننے کا سب سے بڑا سبب رہا ہے۔ اور وقت کے بڑے لوگ جب ایک چیز کو حقیر کردیں تو چھوٹے لوگ بھی اس کو حقیر سمجھ لیتے ہیں۔ اس طرح خواص اور عوام دونوں حق کو قبول کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں۔ دنیا کا مال واسباب امتحان ہے، نہ کہ انعام۔ دنیا کے مال واسباب کی زیادتی نہ کسی آدمی کے مقرب ہونے کی علامت ہے اور نہ اس کی کمی اس کے غیر مقرب ہونے کی۔ اللہ کے یہاں قربت کا مقام اسی شخص کےلیے ہے جو اس بات کا ثبوت دے کہ جو کچھ اس كو ديا گيا تھا اس میں وہ خدا کی یادوں کے ساتھ جیا اور خدا کی مقرر کی ہوئی حدوں کا اپنے آپ کو پابند رکھا۔ یہی لوگ ہیں جو آخرت میں خدا کے ابدی انعامات کے مستحق قرار دئے جائیں گے۔