Recitation
Next: 33_56
Arabic
لَّا جُنَاحَ عَلَيۡهِنَّ فِيٓ ءَابَآئِهِنَّ وَلَآ أَبۡنَآئِهِنَّ وَلَآ إِخۡوَٰنِهِنَّ وَلَآ أَبۡنَآءِ إِخۡوَٰنِهِنَّ وَلَآ أَبۡنَآءِ أَخَوَٰتِهِنَّ وَلَا نِسَآئِهِنَّ وَلَا مَا مَلَكَتۡ أَيۡمَٰنُهُنَّۗ وَٱتَّقِينَ ٱللَّهَۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ شَهِيدًا
Urdu
ازواج نبیؐ کے لیے اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ ان کے باپ، ان کے بیٹے، ان کے بھائی، ان کے بھتیجے، ان کے بھانجے، ان کے میل جول کی عورتیں اور ان کے مملوک گھروں میں آئیں (اے عورتو) تمہیں اللہ کی نافرمانی سے پرہیز کرنا چاہیے اللہ ہر چیز پر نگاہ رکھتا ہے
English
There is no blame upon women concerning their fathers or their sons or their brothers or their brothers’ sons or their sisters’ sons or their women or those their right hands possess. And fear Allah. Indeed Allah is ever, over all things, Witness
Tafsir — Bayan ul Quran
اوپر کی آیت میں مَردوں کےلیے یہ ممانعت تھی کہ وہ ازواج رسول کے سامنے نہ آئیں۔ اس آیت میں بتایاگیا ہے کہ محرم رشتہ دار اور میل جول کی عورتیں ان پابندیوں سے مستثنیٰ ہیں۔ یہاں جن رشتوں کا ذکر ہے اس میں وہ رشتے بھی آجائیں گے جو ان کے حکم میں داخل ہوں۔ اس قرآنی ہدایت کی مزید تفصیل سورہ نور (آیت 31 ) میں موجود ہے۔ تمام احکام کا خلاصہ یہ ہے کہ عورت ہو یا مرد اس کے دل میں اللہ کا ڈر ہو۔ وہ یہ سمجھ کر زندگی گزارے کہ اللہ ہر حال میں اس کی نگرانی کررہا ہے۔