Recitation
Next: 33_41
Arabic
مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَآ أَحَدٖ مِّن رِّجَالِكُمۡ وَلَٰكِن رَّسُولَ ٱللَّهِ وَخَاتَمَ ٱلنَّبِيِّـۧنَۗ وَكَانَ ٱللَّهُ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيمٗا
Urdu
(لوگو) محمدؐ تمہارے مَردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، مگر وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں، اور اللہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے
English
Muhammad is not the father of [any] one of your men, but [he is] the Messenger of Allah and last of the prophets. And ever is Allah, of all things, Knowing
Tafsir — Bayan ul Quran
اِس واقعہ کے بعد حسب توقع آپ کے خلاف زبردست پروپیگنڈا شروع ہوگیا۔ کہا جانے لگا کہ پیغمبر نے اپنی بہو سے نکاح کرلیا، حالانکہ بیٹے کی منکوحہ باپ پر حرام ہوتی ہے۔ فرمایا کہ — محمد کا معاملہ تویہ ہے کہ ان کی صرف لڑکیاں ہیں۔ وہ مردوں میں سے کسی کے باپ ہی نہیں۔ زید بن حارثہ ان کے صرف منھ بولے بیٹے تھے اور منھ بولا بیٹا واقعی بیٹا کیسے ہوسکتا ہے کہ اس کے مطلقہ سے نکاح آپ کے لیے جائز نہ ہو۔ آپ خدا کے پیغمبر تھے، پھر بھی آپ کے ساتھ اتنے اتار چڑھاؤ کے واقعات کیوں پیش آئے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ پیغمبر پر اگرچہ خدا کی وحی آتی ہے۔ مگر اس کو عام انسانوں کی طرح رہنا ہوتاہے۔ موجودہ امتحان کی دنیا میں اس کو بھی ویسے ہی حالات پیش آتے ہیں جیسے حالات دوسروں کو پیش آتے ہیں۔ اگر ایسا نہ ہو تو پیغمبر کی زندگی عام انسانوں پر حجت نہ بن سکے۔ یہی وجہ ہے کہ پیغمبرانہ رہنمائی حقیقی حالات کے ڈھانچہ میں دی جاتی ہے، نہ کہ مصنوعی حالات کے ڈھانچہ میں۔ خاتم النبیین کا لفظی ترجمہ یہ ہے کہ آپ نبیوں کی مہر ہیں۔ خاتم کا لفظ اسٹيمپ (stamp) کےلیے نہیں آتا ہے بلکہ سیل (seal) کےلیے آتا ہے،یعنی آخری عمل۔ لفافہ کو سیل کرنے کا مطلب اس کو آخری طورپر بند کرنا ہے کہ اس کے بعد نہ کوئی چیز اس کے اندر سے باہر نکلے اور نہ باہر سے اندر جائے۔ چنانچہ عربي میں قوم کا خاتم قوم کے آخری شخص کو کہا جاتا ہے (خاتِمُ القَوْم آخرُهم) لسان العرب، جلد 12 ، صفحہ 164 ۔اس واقعہ کے ذیل میں آپ کے خاتم النبیین ہونے کے اعلان کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے بعد چونکہ کوئی اور نبی آنے والا نہیں، اس ليے ضروری ہے کہ تمام خدائی باتوں کا اظہار آپ کے ذریعہ سے کردیا جائے۔