Recitation
Next: 33_40
Arabic
ٱلَّذِينَ يُبَلِّغُونَ رِسَٰلَٰتِ ٱللَّهِ وَيَخۡشَوۡنَهُۥ وَلَا يَخۡشَوۡنَ أَحَدًا إِلَّا ٱللَّهَۗ وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ حَسِيبٗا
Urdu
(یہ اللہ کی سنت ہے اُن لوگوں کے لیے) جو اللہ کے پیغامات پہنچاتے ہیں اور اُسی سے ڈرتے ہیں اور ایک خدا کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے، اور محاسبہ کے لیے بس اللہ ہی کافی ہے
English
[Allah praises] those who convey the messages of Allah and fear Him and do not fear anyone but Allah. And sufficient is Allah as Accountant
Tafsir — Bayan ul Quran
اِس واقعہ کے بعد حسب توقع آپ کے خلاف زبردست پروپیگنڈا شروع ہوگیا۔ کہا جانے لگا کہ پیغمبر نے اپنی بہو سے نکاح کرلیا، حالانکہ بیٹے کی منکوحہ باپ پر حرام ہوتی ہے۔ فرمایا کہ — محمد کا معاملہ تویہ ہے کہ ان کی صرف لڑکیاں ہیں۔ وہ مردوں میں سے کسی کے باپ ہی نہیں۔ زید بن حارثہ ان کے صرف منھ بولے بیٹے تھے اور منھ بولا بیٹا واقعی بیٹا کیسے ہوسکتا ہے کہ اس کے مطلقہ سے نکاح آپ کے لیے جائز نہ ہو۔ آپ خدا کے پیغمبر تھے، پھر بھی آپ کے ساتھ اتنے اتار چڑھاؤ کے واقعات کیوں پیش آئے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ پیغمبر پر اگرچہ خدا کی وحی آتی ہے۔ مگر اس کو عام انسانوں کی طرح رہنا ہوتاہے۔ موجودہ امتحان کی دنیا میں اس کو بھی ویسے ہی حالات پیش آتے ہیں جیسے حالات دوسروں کو پیش آتے ہیں۔ اگر ایسا نہ ہو تو پیغمبر کی زندگی عام انسانوں پر حجت نہ بن سکے۔ یہی وجہ ہے کہ پیغمبرانہ رہنمائی حقیقی حالات کے ڈھانچہ میں دی جاتی ہے، نہ کہ مصنوعی حالات کے ڈھانچہ میں۔ خاتم النبیین کا لفظی ترجمہ یہ ہے کہ آپ نبیوں کی مہر ہیں۔ خاتم کا لفظ اسٹيمپ (stamp) کےلیے نہیں آتا ہے بلکہ سیل (seal) کےلیے آتا ہے،یعنی آخری عمل۔ لفافہ کو سیل کرنے کا مطلب اس کو آخری طورپر بند کرنا ہے کہ اس کے بعد نہ کوئی چیز اس کے اندر سے باہر نکلے اور نہ باہر سے اندر جائے۔ چنانچہ عربي میں قوم کا خاتم قوم کے آخری شخص کو کہا جاتا ہے (خاتِمُ القَوْم آخرُهم) لسان العرب، جلد 12 ، صفحہ 164 ۔اس واقعہ کے ذیل میں آپ کے خاتم النبیین ہونے کے اعلان کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے بعد چونکہ کوئی اور نبی آنے والا نہیں، اس ليے ضروری ہے کہ تمام خدائی باتوں کا اظہار آپ کے ذریعہ سے کردیا جائے۔