Recitation
Next: 3_38
Arabic
فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُولٍ حَسَنٖ وَأَنۢبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنٗا وَكَفَّلَهَا زَكَرِيَّاۖ كُلَّمَا دَخَلَ عَلَيۡهَا زَكَرِيَّا ٱلۡمِحۡرَابَ وَجَدَ عِندَهَا رِزۡقٗاۖ قَالَ يَٰمَرۡيَمُ أَنَّىٰ لَكِ هَٰذَاۖ قَالَتۡ هُوَ مِنۡ عِندِ ٱللَّهِۖ إِنَّ ٱللَّهَ يَرۡزُقُ مَن يَشَآءُ بِغَيۡرِ حِسَابٍ
Urdu
آخرکار اس کے رب نے اس لڑکی کو بخوشی قبول فرما لیا، اُسے بڑی اچھی لڑکی بنا کر اٹھایا اور زکریاؑ کوا س کا سرپرست بنا دیا زکریاؑ جب کبھی اس کے پاس محراب میں جاتا تو اس کے پاس کچھ نہ کچھ کھانے پینے کا سامان پاتا پوچھتا مریمؑ! یہ تیرے پا س کہاں سے آیا؟ وہ جواب دیتی اللہ کے پاس سے آیا ہے، اللہ جسے چاہتا ہے بے حساب دیتا ہے
English
So her Lord accepted her with good acceptance and caused her to grow in a good manner and put her in the care of Zechariah. Every time Zechariah entered upon her in the prayer chamber, he found with her provision. He said, “O Mary, from where is this [coming] to you?” She said, “It is from Allah. Indeed, Allah provides for whom He wills without account
Tafsir — Bayan ul Quran
اللہ نے حضرت زکریا کو بڑھاپے میں اولاد دی، حضرت مریم کو حجرہ میں رزق پہنچایا، حضرت مسیح کو بغیر باپ کے پیدا کیا، آلِ ابراہیم میں ایسے صلحا پیدا کيے جن کو خدا کی پیغام بری کے لیے چنا جائے۔ اللہ نے اپنے ان بندوں کو یہ انعامات یوں ہی نہیں ديے بلکہ ان کو اس کا مستحق پاکر ایسا کیا۔ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے اپنی اولاد سے معاشی توقعات قائم نہیں کیں،ان کی خوشی ا س میں تھی کہ ان کی اولاد اللہ کی راہ میں سرگرم ہو۔ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے اپنے اندر اس تمنا کی پرورش کی کہ ان کی اولاد شیطان سے بچی رہے، وہ نیک بندوں کی جماعت میں شامل ہوجائے۔ کسی کے اندر بھلائی دیکھ کر وہ حسد اور جلن میں مبتلا نہیں ہوئے۔ ان کے نیک جذبات کے اثر سے ان کی اولاد بھی ایسی ہوئی جو دنیا کی زندگی میں اپنے نفس پر قابو رکھنے والی ہو، وہ اللہ کو یاد کرے۔ بدی اور نیکی کے درمیان وہ نیکی کے راستہ کو اختیار کرے ۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کواللہ اپنے رزقِ خاص سے کھلاتا پلاتا ہے اور ان کو اپنی خصوصی رحمت کے لیے قبول کرلیتا ہے۔