Recitation

Next: 29_29


Arabic

وَلُوطًا إِذۡ قَالَ لِقَوۡمِهِۦٓ إِنَّكُمۡ لَتَأۡتُونَ ٱلۡفَٰحِشَةَ مَا سَبَقَكُم بِهَا مِنۡ أَحَدٖ مِّنَ ٱلۡعَٰلَمِينَ


Urdu

اور ہم نے لوطؑ کو بھیجا جبکہ اُس نے اپنی قوم سے کہا “تم تو وہ فحش کام کرتے ہو جو تم سے پہلے دنیا والوں میں سے کسی نے نہیں کیا ہے


English

And [mention] Lot, when he said to his people, “Indeed, you commit such immorality as no one has preceded you with from among the worlds


Tafsir — Bayan ul Quran

حضرت لوط بابل کو چھوڑ کر اردن کے علاقہ میں آگئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو پیغمبر بنایا اور ان کو قوم لوط کی اصلاح کے کام پر مقرر کیا۔ یہ قوم بحر مردار (Dead Sea) کے قریب سدوم کے علاقہ میں رہتی تھی اور امرد پرستی کی غیر فطری عادت میں مبتلا تھی۔اسی نسبت سے دوسری برائیاں بھی ان کے اندر عام ہوچکی تھیں۔ مگر انھوں نے اصلاح قبول نہ کی۔ ’’اللہ کا عذاب لاؤ‘‘ کا اصل رخ حضرت لوط کی طرف تھا، نہ کہ اللہ کی طرف۔ انھوںنے حضرت لوط کو اتنا حقیر سمجھا کہ ان کے نزدیک یہ ناممکن تھا کہ ان کی بات نہ ماننے سے وہ خدا کی پکڑ میں آجائیں گے۔ چنانچہ بطور مذاق انھوں نے کہا کہ اگر تم واقعی سچے ہو تو ہمارے اوپر خدا کا عذاب لاؤ۔


Connections

  • Previous: 29_27
  • Next: 29_29
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes