Recitation

Next: 24_33


Arabic

وَأَنكِحُواْ ٱلۡأَيَٰمَىٰ مِنكُمۡ وَٱلصَّـٰلِحِينَ مِنۡ عِبَادِكُمۡ وَإِمَآئِكُمۡۚ إِن يَكُونُواْ فُقَرَآءَ يُغۡنِهِمُ ٱللَّهُ مِن فَضۡلِهِۦۗ وَٱللَّهُ وَٰسِعٌ عَلِيمٞ


Urdu

تم میں سے جو لوگ مجرد ہوں، اور تمہارے لونڈی غلاموں میں سے جو صالح ہوں، ان کے نکاح کر دو اگر وہ غریب ہوں تو اللہ اپنے فضل سے اُن کو غنی کر دے گا، اللہ بڑی وسعت والا اور علیم ہے


English

And marry the unmarried among you and the righteous among your male slaves and female slaves. If they should be poor, Allah will enrich them from His bounty, and Allah is all-Encompassing and Knowing


Tafsir — Bayan ul Quran

اسلام مرد اور عورت کے ليے شادی شدہ زندگی پسند کرتا ہے۔ کسی بھی عذر کی بنا پر نکاح سے رکنا اسلام میں درست نہیں۔ کچھ لوگ کسی ذاتی سبب سے غیر شادی شدہ رہ جائیں تو اس وقت اسلام پورے معاشرہ میں یہ روح دیکھنا چاہتا ہے کہ تمام لوگ اس کو ایک مشترک مسئلہ سمجھیں اور اس وقت تک مطمئن نہ ہوں جب تک وہ اس مسئلہ کو شرعی طریقوں سے حل نہ کرلیں۔ کتاب یا مکاتبت کے لفظی معنی ہیں لکھنا۔ اس سے مراد وہ تحریر ہے جس میں کوئی لونڈی یا غلام اپنے آقا سے یہ عہد کرے کہ میں اتنی مدت میں اتنا مال کما کر تجھے دے دوں گا اور اس کے بعد سے میں آزاد ہوں گا۔ اسلام جس زمانہ میں آیا اس وقت عرب میں اور ساری دنیا میں غلام بنانے کا رواج تھا۔ اسلام نے نہایت منظم طورپر اس کو ختم کرناشروع کیا۔ اسی میں سے ایک طریقہ وہ تھا جس کو مکاتبت کہاجاتا ہے۔ تاہم اسلام نے فک رقبہ (گردنیں چھڑانے) کی یہ مہم اپنے عام اصول کے مطابق تدریج کے تحت چلائی۔ مختلف طریقوں سے غلاموں اور لونڈیوں کو رہا کیا جاتا رہا۔ یہاں تک کہ خلافت راشدہ کے آخری دور تک اس ادارہ کا تقریباً خاتمہ ہوگیا۔ قدیم زمانہ میں بعض لوگ اپنی لونڈیوں سے کسب کراتے تھے۔ مدینہ کے منافق عبد اللہ بن ابی کے پاس کئی لونڈیاں تھیں جن سے بدکاری کراکر وہ رقم حاصل کرتا تھا۔ ان میں سے ایک لونڈی نے اسلام قبول کرلیا اور کسب سے باز آنا چاہا تو عبد اللہ بن ابی نے اس پر جبر کرنا شروع کیا۔ بالآخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے یہ لونڈی عبد اللہ بن ابی کے قبضہ سے رہا کرائی گئی۔


Connections

  • Previous: 24_31
  • Next: 24_33
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes