Recitation
Next: 24_32
Arabic
وَقُل لِّلۡمُؤۡمِنَٰتِ يَغۡضُضۡنَ مِنۡ أَبۡصَٰرِهِنَّ وَيَحۡفَظۡنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبۡدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنۡهَاۖ وَلۡيَضۡرِبۡنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَىٰ جُيُوبِهِنَّۖ وَلَا يُبۡدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوۡ ءَابَآئِهِنَّ أَوۡ ءَابَآءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوۡ أَبۡنَآئِهِنَّ أَوۡ أَبۡنَآءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوۡ إِخۡوَٰنِهِنَّ أَوۡ بَنِيٓ إِخۡوَٰنِهِنَّ أَوۡ بَنِيٓ أَخَوَٰتِهِنَّ أَوۡ نِسَآئِهِنَّ أَوۡ مَا مَلَكَتۡ أَيۡمَٰنُهُنَّ أَوِ ٱلتَّـٰبِعِينَ غَيۡرِ أُوْلِي ٱلۡإِرۡبَةِ مِنَ ٱلرِّجَالِ أَوِ ٱلطِّفۡلِ ٱلَّذِينَ لَمۡ يَظۡهَرُواْ عَلَىٰ عَوۡرَٰتِ ٱلنِّسَآءِۖ وَلَا يَضۡرِبۡنَ بِأَرۡجُلِهِنَّ لِيُعۡلَمَ مَا يُخۡفِينَ مِن زِينَتِهِنَّۚ وَتُوبُوٓاْ إِلَى ٱللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَ ٱلۡمُؤۡمِنُونَ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُونَ
Urdu
اور اے نبیؐ، مومن عورتوں سے کہہ دو کہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں، اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، اور اپنا بناؤ سنگھار نہ دکھائیں بجز اُس کے جو خود ظاہر ہو جائے، اور اپنے سینوں پر اپنی اوڑھنیوں کے آنچل ڈالے رہیں وہ اپنا بناؤ سنگھار نہ ظاہر کریں مگر اِن لوگوں کے سامنے: شوہر، باپ، شوہروں کے باپ، اپنے بیٹے، شوہروں کے بیٹے، بھائی، بھائیوں کے بیٹے، بہنوں کے بیٹے، اپنے میل جول کی عورتیں، ا پنے مملوک، وہ زیردست مرد جو کسی اور قسم کی غرض نہ رکھتے ہوں، اور وہ بچے جو عورتوں کی پوشیدہ باتوں سے ابھی واقف نہ ہوئے ہوں وہ ا پنے پاؤں زمین پر مارتی ہوئی نہ چلا کریں کہ اپنی جو زینت انہوں نے چھپا رکھی ہو اس کا لوگوں کو علم ہو جائے اے مومنو، تم سب مل کر اللہ سے توبہ کرو، توقع ہے کہ فلاح پاؤ گے
English
And tell the believing women to reduce [some] of their vision and guard their private parts and not expose their adornment except that which [necessarily] appears thereof and to wrap [a portion of] their headcovers over their chests and not expose their adornment except to their husbands, their fathers, their husbands’ fathers, their sons, their husbands’ sons, their brothers, their brothers’ sons, their sisters’ sons, their women, that which their right hands possess, or those male attendants having no physical desire, or children who are not yet aware of the private aspects of women. And let them not stamp their feet to make known what they conceal of their adornment. And turn to Allah in repentance, all of you, O believers, that you might succeed
Tafsir — Bayan ul Quran
خواتین کے سلسلہ میں اسلام کے احکام دو پہلوؤں سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایک وہ جس کا عنوان ستر ہے اور دوسرے وہ جس کا عنوان حجاب ہے۔ ستر کا تعلق جسم کے پردہ سے ہے۔ یعنی عورت خواہ گھر کے اندر ہو یا گھر کے باہر، اس کو اپنے بدن کا کون سا حصہ، کس کے سامنے اور کن حالات میں کھلا رکھنا جائز ہے اور کب کھلا رکھنا جائز نہیں۔ حجاب کا تعلق باہر کے پردہ سے ہے، یعنی اس مسئلہ سے کہ شریعت نے عورت کوکن حالات میں گھر سے باہر نکلنے اور سفر کرنے کی اجازت دی ہے۔ ان آیات میں بنیادی طورپر ستر کا مسئلہ بیان ہوا ہے۔ حجاب کا مسئلہ آگے سورہ احزاب میں ہے۔ ’’اے مومنو تم سب اللہ کی طرف رجوع کرو‘‘— یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ احکام شریعت کی تعمیل کے سلسلہ میں سب سے اہم چیز یہ ہے کہ دلوں کے اندر اس کی آمادگی ہو۔ صحابہ اور صحابیات اس معاملہ میں آخری معیاری درجہ پر تھے۔ حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ خدا کی قسم میں نے خداکی کتاب کی تصدیق اور اس کے احکام پر ایمان کے معاملہ میں انصار کی عورتوں سے بہتر کسی کو نہیں پایا۔ جب سورہ نور کی آیت (وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ) اتری تو ان کے مرد اپنے گھروں کی طرف لوٹے۔ انھوں نے اپنی عورتوں اور لڑکیوں اور بہنوں کو وہ حکم سنایا جو خدانے ان کے ليے اتارا تھا۔ پس انصار کی عورتوں میں سے ہر عورت فوراً اٹھ کھڑی ہوئی۔ کسی نے اپنی کمر پٹی کھول کر اور کسی نے اپنی چادر لے کر اس کا دوپٹہ بنایا اور اس کو اوڑھ لیا۔ اگلے دن صبح کی نماز انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پڑھی تو دوپٹہ کی وجہ سے ایسا معلوم ہوتا تھا گویا ان کے سروں پر کوّے ہوں (تفسیر ابن ابی حاتم، حدیث نمبر 14406)۔