Recitation
Next: 21_82
Arabic
وَلِسُلَيۡمَٰنَ ٱلرِّيحَ عَاصِفَةٗ تَجۡرِي بِأَمۡرِهِۦٓ إِلَى ٱلۡأَرۡضِ ٱلَّتِي بَٰرَكۡنَا فِيهَاۚ وَكُنَّا بِكُلِّ شَيۡءٍ عَٰلِمِينَ
Urdu
اور سلیمانؑ کے لیے ہم نے تیز ہوا کو مسخّر کر دیا تھا جو اس کے حکم سے اُس سرزمین کی طرف چلتی تھی جس میں ہم نے برکتیں رکھی ہیں، ہم ہر چیز کا علم رکھنے والے تھے
English
And to Solomon [We subjected] the wind, blowing forcefully, proceeding by his command toward the land which We had blessed. And We are ever, of all things, Knowing
Tafsir — Bayan ul Quran
یہاں ہواؤں کی تسخیر سے مراد بحری جہاز رانی ہے۔ قدیم زمانہ میں سمندری سفر میں اس وقت انقلاب آیا جب کہ انسان نے بادبانی جہاز بنانے کا طریقہ دریافت کیا۔ یہ باد بان گویا ہواؤں کو مسخر کرنے کا ذریعہ تھے اور اس زمانہ کے جہازوں کے لیے انجن کا کام کرتے تھے۔ بادبانی جہازوں کی ایجاد نے سمندروں کو زیادہ بڑے پیمانے پر نقل وحمل کے لیے قابل استعمال بنادیا۔ اس سے اندازہ ہوتاہے کہ بحری جہاز رانی کی سائنس بھی غالباً انسان کو پیغمبروں کے ذریعہ سکھائی گئی۔ اس کے علاوہ جنوں میں سے بھی ایک گروہ کو اللہ نے حضرت سلیمان کے تابع کردیا تھا۔ وہ ان کے لیے ایسے بڑے بڑے رفاہی کام کرتے تھے جو عام انسان نہیں کرسکتے۔ جدید مشینی دور میں انسانی فائدے کے زیادہ بڑے کام مشینیں انجام دیتی ہیں۔مشینی دور سے پہلے اس قسم کے بڑے بڑے کاموں کو ممکن بنانے کے ليے خدا نے جنوں کو اپنے پیغمبر کی ماتحتی میں دے دیا تھا۔