Recitation
Next: 2_254
Arabic
۞تِلۡكَ ٱلرُّسُلُ فَضَّلۡنَا بَعۡضَهُمۡ عَلَىٰ بَعۡضٖۘ مِّنۡهُم مَّن كَلَّمَ ٱللَّهُۖ وَرَفَعَ بَعۡضَهُمۡ دَرَجَٰتٖۚ وَءَاتَيۡنَا عِيسَى ٱبۡنَ مَرۡيَمَ ٱلۡبَيِّنَٰتِ وَأَيَّدۡنَٰهُ بِرُوحِ ٱلۡقُدُسِۗ وَلَوۡ شَآءَ ٱللَّهُ مَا ٱقۡتَتَلَ ٱلَّذِينَ مِنۢ بَعۡدِهِم مِّنۢ بَعۡدِ مَا جَآءَتۡهُمُ ٱلۡبَيِّنَٰتُ وَلَٰكِنِ ٱخۡتَلَفُواْ فَمِنۡهُم مَّنۡ ءَامَنَ وَمِنۡهُم مَّن كَفَرَۚ وَلَوۡ شَآءَ ٱللَّهُ مَا ٱقۡتَتَلُواْ وَلَٰكِنَّ ٱللَّهَ يَفۡعَلُ مَا يُرِيدُ
Urdu
یہ رسول (جو ہماری طرف سے انسانوں کی ہدایت پر مامور ہوئے) ہم نے ان کو ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر مرتبے عطا کیے ان میں کوئی ایسا تھا جس سے خدا خود ہم کلام ہوا، کسی کو اس نے دوسری حیثیتوں سے بلند درجے دیے، اور آخر میں عیسیٰ ابن مریمؑ کو روشن نشانیاں عطا کیں اور روح پاک سے اس کی مدد کی اگر اللہ چاہتا، تو ممکن نہ تھا کہ اِن رسولوں کے بعد جو لوگ روشن نشانیاں دیکھ چکے تھے، وہ آپس میں لڑتے مگر (اللہ کی مشیت یہ نہ تھی کہ وہ لوگوں کو جبراً اختلاف سے روکے، اس وجہ سے) انہوں نے باہم اختلاف کیا، پھر کوئی ایمان لایا اور کسی نے کفر کی راہ اختیار کی ہاں، اللہ چاہتا، تو وہ ہرگز نہ لڑتے، مگر اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے
English
Those messengers - some of them We caused to exceed others. Among them were those to whom Allah spoke, and He raised some of them in degree. And We gave Jesus, the Son of Mary, clear proofs, and We supported him with the Pure Spirit. If Allah had willed, those [generations] succeeding them would not have fought each other after the clear proofs had come to them. But they differed, and some of them believed and some of them disbelieved. And if Allah had willed, they would not have fought each other, but Allah does what He intends
Tafsir — Bayan ul Quran
اللہ کی طرف سے کوئی پکارنے والا جب لوگوں کو پکارتا ہے تو اس کی پکار میں ایسی نشانیاں شامل ہوتی ہیںکہ لوگوں کو یہ سمجھنے میں دیر نہ لگے کہ وہ خدا کی طرف سے ہے۔ اس کے باوجود لوگ اس کا انکار کردیتے ہیں اور یہ انکار کرنے والے سب سے پہلے وہ لوگ ہوتے ہیںجو رسالت کو مانتے چلے آرہے تھے۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ جس رسول کو مان رہے ہوتے ہیں اس کی بعض خصوصیات کی بنا پر وہ اس کی افضلیت کا تصور قائم کرلیتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جب ہمارا رسول اتنا افضل ہے اور اس کو ہم مان رہے ہیں تو اب کسی اور کو ماننے کی کیا ضرورت۔ ہر پیغمبر مختلف حالات میں آتا ہے اور اپنے مشن کی تکمیل کے لیے ہر ایک کو الگ الگ چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس اعتبار سے کسی پیغمبر کو ایک فضیلت (خصوصی چیز) دی جاتی ہے اور کسی کو دوسری فضیلت۔ بعد کے دور میں پیغمبر کی یہی فضیلت اس کے امتیوں کے لیے فتنہ بن جاتی ہے۔ وہ اپنے نبی کو دی جانے والی فضیلت کو تائیدی فضیلت کے بجائے مطلق فضیلت کے معنی میں لے لیتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ہم سب سے افضل پیغمبر کو مان رہے ہیں۔ اس ليے اب ہمیں کسی اور کو ماننے کی ضرورت نہیں۔ حضرت موسیٰؑ کے ماننے والوں نے حضرت مسیح ؑکا انکار کیا۔ کیوں کہ وہ سمجھتے تھے کہ ان کا نبی اتنا افضل ہے کہ خدا براہِ راست اس سے ہم کلام ہوا۔ حضرت مسیح ؑکے ماننے والوں نے نبی آخر الزماں کا انکار کیا۔ کیوں کہ انھوں نے سمجھا کہ وہ ایسی ہستی کو مان رہے ہیں جس کی فضیلت اتنی زیادہ ہے کہ خدا نے اس کو باپ کے بغیر پیدا کیا۔ اسی طرح اللہ کے وہ بندے جو امت محمدی کی اصلاح وتجدید کے لیے اٹھے ان کابھی لوگوں نے انکار کیا۔ کیوں کہ ان کے مخاطبین کی نفسیات یہ تھی کہ ہم بزرگوں کے وارث ہیں، ہم اکابر کا دامن تھامے ہوئے ہیں پھر ہم کو کسی اور کی کیا ضرورت۔ امتوں کے زوال کے زمانہ میں ایسا ہوتاہے کہ لوگ دنیا کے راستہ پر چل پڑتے ہیں۔ اسی کے ساتھ وہ چاہتے ہیں کہ ان کی جنت بھی محفوظ رہے۔ اس وقت یہ عقیدہ ان کے لیے ایک نفسیاتی سہارا بن جاتا ہے۔ وہ اپنی مقدس شخصیتوں کی افضلیت کے تصور میں یہ تسکین پالیتے ہیں کہ دنیا میں خواہ وہ کچھ بھی کریں ان کی آخرت کبھی مشتبہ نہیں ہوگی۔ یہی غلط اعتماد ہے جو لوگوں کو اللہ کی طرف بلانے والے کی مخالفت پر جری بناتا ہے۔ اللہ کے لیے یہ ممکن تھا کہ وہ لوگوں کی ہدایت ورہنمائی کے لیے کوئی دوسرا نظام قائم کرتا جس میں کسی کے لیے اختلاف کی گنجائش نہ ہو۔ مگر یہ دنیا امتحان کی جگہ ہے۔ یہاں تو اسی بات کی آزمائش ہورہی ہے کہ آدمی غیب کی حالت میں خدا کو پائے۔ انسان کی زبان سے بلند ہونے والی خدائی آواز کو پہچانے۔ ظاہری پردوں سے گزر کر سچائی کو اس کے باطنی روپ میں دیکھ لے۔