Recitation
Next: 19_22
Arabic
قَالَ كَذَٰلِكِ قَالَ رَبُّكِ هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٞۖ وَلِنَجۡعَلَهُۥٓ ءَايَةٗ لِّلنَّاسِ وَرَحۡمَةٗ مِّنَّاۚ وَكَانَ أَمۡرٗا مَّقۡضِيّٗا
Urdu
فرشتے نے کہا “ایسا ہی ہوگا، تیرا رب فرماتا ہے کہ ایسا کرنا میرے لیے بہت آسان ہے اور ہم یہ اس لیے کریں گے کہ اُس لڑکے کو لوگوں کے لیے ایک نشانی بنائیں اور اپنی طرف سے ایک رحمت اور یہ کام ہو کر رہنا ہے
English
He said, “Thus [it will be]; your Lord says, ‘It is easy for Me, and We will make him a sign to the people and a mercy from Us. And it is a matter [already] decreed
Tafsir — Bayan ul Quran
حضرت مریم اپنی والدہ کی نذر کے مطابق ہیکل (بیت المقدس) کی خدمت کے لیے دے دی گئی تھیں۔ قدیم ہیکل کا مشرقی حصہ عورتوں کے لیے خاص تھا۔ وہ اس حصہ میں ایک طرف پردہ ڈال کر معتکف ہوگئیں۔ اس کے بعد اچانک ایک روز ایسا ہوا کہ انھوں نے دیکھا کہ ایک تندرست وتوانا آدمی ان کے سامنے کھڑا ہوا ہے۔ اس منظر سے ان کا گھبرا اٹھنا بالکل فطری تھا۔ مگر آدمی نے بتایا کہ وہ فرشتہ ہے۔ اور خدا کی طرف سے اس لیے آیا ہے کہ حضرت مریم کو معجزاتی طورپر ایک بچہ عطا کرے۔ حضرت مسیح علیہ السلام کا اس طرح معجزاتی طورپر پیدا ہونا خدا کی ایک عظیم نشانی تھی۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ یہود آپ کے فرستادۂ خدا ہونے پر شک نہ کریں اور آپ خدا کی طرف سے جو باتیں بتائیں ان کو مان لیں۔ مگر اتنی کھلی ہوئی نشانی کے باوجود انھو ںنے حضرت مسیح کا انکار کردیا۔