Recitation
Next: 17_60
Arabic
وَمَا مَنَعَنَآ أَن نُّرۡسِلَ بِٱلۡأٓيَٰتِ إِلَّآ أَن كَذَّبَ بِهَا ٱلۡأَوَّلُونَۚ وَءَاتَيۡنَا ثَمُودَ ٱلنَّاقَةَ مُبۡصِرَةٗ فَظَلَمُواْ بِهَاۚ وَمَا نُرۡسِلُ بِٱلۡأٓيَٰتِ إِلَّا تَخۡوِيفٗا
Urdu
اور ہم کو نشانیاں بھیجنے سے نہیں روکا مگر اس بات نے کہ اِن سے پہلے کے لوگ اُن کو جھٹلا چکے ہیں (چنانچہ دیکھ لو) ثمود کو ہم نے علانیہ اونٹنی لا کر دی اور اُنہوں نے اس پر ظلم کیا ہم نشانیاں اسی لیے تو بھیجتے ہیں کہ لوگ انہیں دیکھ کر ڈریں
English
And nothing has prevented Us from sending signs except that the former peoples denied them. And We gave Thamud the she-camel as a visible sign, but they wronged her. And We send not the signs except as a warning
Tafsir — Bayan ul Quran
پیغمبروں کے ساتھ جو غیر معمولی واقعات پیش آتے ہیں وہ دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو پیغمبر اور آپ کے ساتھیوں کی عمومی نصرت کے لیے ہوتے ہیں۔ ان کو تائید کہا جاسکتا ہے۔ دوسرے وہ ہیں جو مشرکین کے مطالبہ کے طورپر ظاہر کيے جاتے ہیں۔ ان کا اصطلاحی نام معجزہ ہے۔ پیغمبر آخر الزماں اور آپ کے اصحاب کے ساتھ تائید الٰہی کے بے شمار واقعات پیش آئے۔ مگر جہاں تک فرمائشی نشانی (معجزہ) کا تعلق ہے آپ کے لیے ان کو بھیجنا موقوف کردیاگیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر چیز کے کچھ تقاضے ہوتے ہیں۔ جو لوگ غیر معمولی نشانی کا مطالبہ کریں، ان کے اوپر غیر معمولی ذمہ داریاں بھی عائد ہوتی ہیں۔ چنانچہ خدا کا یہ قانون ہے کہ جو لوگ غیر معمولی نشانی (معجزہ) دیکھنے کے باوجود ایمان نہ لائیں ان کو سخت عذاب بھیج کر نیست و نابود کردیا جائے۔ اب چونکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت کا سلسلہ ختم ہونے والا تھا اس لیے آپ کی مخاطب قوم کے ساتھ ایسا نہیں کیا جاسکتا تھا۔ کیوں کہ بالکلیہ تباہی کی صورت میں قوم مٹ جاتی۔ پھر پیغمبر کے بعد پیغمبر کی نمائندگی کے لیے دنیا میں کون باقی رہتا۔ پیغمبر آخر الزماں کے مخاطبین کے ساتھ یہ اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت تھی کہ ان کے مطالبہ کے باوجود ان کو محسوس معجزات نہیں دکھائے گئے۔ اگر ایسا کیا جاتا تو اندیشہ تھا کہ ان کا بھی وہی سخت انجام ہو جو اس سے پہلے قوم ثمود کا ہوا۔