Recitation
Next: 16_44
Arabic
وَمَآ أَرۡسَلۡنَا مِن قَبۡلِكَ إِلَّا رِجَالٗا نُّوحِيٓ إِلَيۡهِمۡۖ فَسۡـَٔلُوٓاْ أَهۡلَ ٱلذِّكۡرِ إِن كُنتُمۡ لَا تَعۡلَمُونَ
Urdu
اے محمدؐ، ہم نے تم سے پہلے بھی جب کبھی رسول بھیجے ہیں آدمی ہی بھیجے ہیں جن کی طرف ہم اپنے پیغامات وحی کیا کرتے تھے اہل ذکر سے پوچھ لو اگر تم لوگ خود نہیں جانتے
English
And We sent not before you except men to whom We revealed [Our message]. So ask the people of the message if you do not know
Tafsir — Bayan ul Quran
’’اہل علم‘‘ سے مراد یہاں اہل کتاب ہیں۔ یا وہ لوگ جو پچھلی امتوں اور پچھلے پیغمبروں کے تاریخی حالات کا علم رکھتے ہیں۔ جو چیز ان سے پوچھنے کے لیے فرمائی گئی ہے وہ یہ نہیں ہے کہ حق کیا ہے اور ناحق کیا۔ بلکہ یہ کہ پچھلے زمانوں میں جو پیغمبر آئے وہ انسان تھے یا غیر انسان۔ مکہ والے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انسان ہونے کو اس بات کی دلیل بناتے تھے کہ آپ خدا کے پیغمبر نہیں ہیں۔ ان سے کہا گیا کہ جن قوموں میں اس سے پہلے پیغمبر آتے رہے ہیں (مثلاً یہود)، ان سے پوچھ کر معلوم کرلو کہ ان کے یہاں جو پیغمبر آئے وہ انسان تھے یا فرشتے۔ پیغمبر صرف ’’یاد دہانی‘‘ کے لیے آتا ہے، یہ یاد دہانی اصلاً دلائل کے ذریعہ ہوتی ہے۔ تاہم یہ بھی ضروری ہے کہ پیغمبر اپنے آپ کو اس معاملہ میں پوری طرح سنجیدہ ثابت کرے۔ اگر ایک شخص لوگوں کو جنت اور جہنم سے باخبر کرے اور اسی کے ساتھ وہ ایسے کاموں میں مشغول ہوجو جنت اور جہنم کے معاملہ میں اس کو غیر سنجیدہ ثابت کرتے ہوں تو اس کا دعوتی کام لوگوں کی نظر میں مذاق بن کر رہ جائے گا۔ تاہم دعوت خواہ کتنے ہی اعلیٰ درجہ پر او رکتنے ہی کامل انداز میں پیش کردی جائے اس سے وہی لوگ فائدہ اٹھائیں گے جو خود بھی اس پردھیان دیں۔ جو لوگ دھیان نہ دیں وہ کسی بھی حالت میں دعوت حق سے فیض ياب نہیں ہوسکتے۔