Recitation
Next: 16_43
Arabic
ٱلَّذِينَ صَبَرُواْ وَعَلَىٰ رَبِّهِمۡ يَتَوَكَّلُونَ
Urdu
جنہوں نے صبر کیا ہے اور جو اپنے رب کے بھروسے پر کام کر رہے ہیں (کہ کیسا اچھا انجام اُن کا منتظر ہے)
English
[They are] those who endured patiently and upon their Lord relied
Tafsir — Bayan ul Quran
اکثر مفسرین نے اس آیت کو ان 80 صحابہ سے متعلق مانا ہے جو مکہ میں مخالفین اسلام کی زیادتیوں کا نشانہ بن رہے تھے اور بالآخر اپنا وطن چھوڑ کر حبش چلے گئے۔ یہ واقعہ ہجرت مدینہ سے پہلے مکی دور میں پیش آیا۔ حق کے معاملہ میں ہمیشہ دو گروہ ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو حق کو اتنی اہمیت نہ دیں کہ اس کی خاطر ملی ہوئی چیزوں کو چھوڑیں یا اپنی زندگی کا نقشہ بدلیں۔ دوسرے وہ لوگ جو حق کو اس طرح اختیار کرتے ہیں کہ وہی ان کے نزدیک سب سے اہم چیز بن جاتا ہے۔ وہ اس کی خاطر ہر تکلیف کو سہنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ وہ حق کو اپنا اہم ترین مسئلہ بنا لیتے ہیں۔ وہ ہر دوسری چیز کو چھوڑ سکتے ہیں مگر حق کو نہیں چھوڑ سکتے۔ ظاہر ہے کہ دونوں قسم کے گروہوں کا انجام یکساں نہیںہوسکتا۔ جن لوگوں نے حق کو اپنی زندگی میں اہم ترین مقام دیا وہ خدا کی ابدی نعمتوں کے مستحق ٹھہریںگے۔ اور جن لوگوں نے حق کو نظر انداز کیا انھیں خدا بھی نظر انداز کردے گا۔ وہ خدا کے یہاں کوئی عزت کا مقام نہیں پاسکتے اور نہ وہ خدا کی نعمتوں میں حصہ دار بن سکتے۔