Recitation
Next: 16_29
Arabic
ٱلَّذِينَ تَتَوَفَّىٰهُمُ ٱلۡمَلَـٰٓئِكَةُ ظَالِمِيٓ أَنفُسِهِمۡۖ فَأَلۡقَوُاْ ٱلسَّلَمَ مَا كُنَّا نَعۡمَلُ مِن سُوٓءِۭۚ بَلَىٰٓۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمُۢ بِمَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ
Urdu
ہاں، اُنہی کافروں کے لیے جو اپنے نفس پر ظلم کرتے ہوئے جب ملائکہ کے ہاتھوں گرفتار ہوتے ہیں تو (سرکشی چھوڑ کر) فوراً ڈگیں ڈال دیتے ہیں اور کہتے ہیں “ہم تو کوئی قصور نہیں کر رہے تھے” ملائکہ جواب دیتے ہیں “کر کیسے نہیں رہے تھے! اللہ تمہارے کرتوتوں سے خوب واقف ہے
English
The ones whom the angels take in death [while] wronging themselves, and [who] then offer submission, [saying], “We were not doing any evil.” But, yes! Indeed, Allah is Knowing of what you used to do
Tafsir — Bayan ul Quran
تکبر سب سے بڑا جرم ہے۔خدا انسان کی ہر غلطی معاف کردے گا مگر وہ تکبر کو معاف نہیں کرے گا۔تکبر کے اظہار کی دو بڑی صورتیں ہیں۔ ایک تکبر وہ جو عام بندوں کے درمیان ظاہر ہوتا ہے ۔ ایک آدمی طاقت، دولت اور دیگر سازوسامان میں اپنے کو دوسرے کے مقابلہ میں زیادہ پاتا ہے، اس بنا پر وہ اس سے تکبر کرنے لگتا ہے۔ دوسرا زیادہ شدید تکبر وہ ہے جو داعیٔ حق کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ خدا کا ایک بندہ خدا کے سچے دین کی دعوت لے کر اٹھتا ہے۔ اب جو لوگ جھوٹے دین کی بنیاد پر بڑائی کا مقام حاصل کيے ہوئے ہیں، وہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کے اوپر اس کی زد پڑ رہی ہے۔ وہ سچے دین کے معیار پر بے قیمت قرار پارہے ہیں۔ یہ دیکھ کر وہ بپھر اٹھتے ہیں۔ اور داعیٔ حق کو متکبرانہ نفسیات کے ساتھ نظر انداز کردیتے ہیں۔ آدمی جب کسی کے مقابلہ میں تکبر کرتا ہے تو اس لیے کرتا ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ وہ اس کا کچھ بگاڑ نہیں سکتا۔ مگر جب موت کے فرشتے آئیں گے اور اس کو بے بس کردیں گے، اس وقت اس کو معلوم ہوگا کہ معاملہ کسی انسان کا نہیں بلکہ خدا کا تھا، انسان کسی دوسرے انسان کے مقابلہ میں طاقت ور ہوسکتا ہے مگر خدا کے مقابلہ میں کون طاقت ور ہے۔ خداکے فرشتے جب انسان کو اپنے قبضہ میں لیتے ہیں تو اس وقت ہر آدمی ہتھیار ڈال دیتاہے۔ مگر اللہ کا سچّا بندہ وہ ہے جو اس موقع کے آنے سے پہلے خدا کے آگے ہتھیار ڈال دے۔