Recitation

Next: 16_28


Arabic

ثُمَّ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ يُخۡزِيهِمۡ وَيَقُولُ أَيۡنَ شُرَكَآءِيَ ٱلَّذِينَ كُنتُمۡ تُشَـٰٓقُّونَ فِيهِمۡۚ قَالَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡعِلۡمَ إِنَّ ٱلۡخِزۡيَ ٱلۡيَوۡمَ وَٱلسُّوٓءَ عَلَى ٱلۡكَٰفِرِينَ


Urdu

پھر قیامت کے روز اللہ اُنہیں ذلیل و خوار کرے گا اور اُن سے کہے گا “بتاؤ اب کہاں ہیں میرے وہ شریک جن کے لیے تم (اہل حق سے) جھگڑے کیا کرتے تھے؟” جن لوگوں کو دنیا میں علم حاصل تھا وہ کہیں گے “آج رسوائی اور بدبختی ہے کافروں کے لیے


English

Then on the Day of Resurrection He will disgrace them and say, “Where are My ‘partners’ for whom you used to oppose [the believers]?” Those who were given knowledge will say, “Indeed disgrace, this Day, and evil are upon the disbelievers


Tafsir — Bayan ul Quran

جو لوگ جھوٹی بنیادوں پر بڑائی کا مقام حاصل کيے ہوئے ہیں، وہ جب کسی دعوتِ حق کو اٹھتا ہوا دیکھتے ہیں تو ان کو اپنے مقام کے لیے خطرہ محسوس ہونے لگتاہے۔ وہ اپنے مقام کے تحفظ کے لیے یہ تدبیر کرتے ہیں کہ دعوتِ حق کے خلاف ایسی فتنہ انگیز باتیں پھیلاتے ہیں جن سے عوام اس کے بارے میں مشتبہ ہوجائیں اور ا س کے گرد جمع نہ ہوسکیں۔ مگر دعوت حق کے خلاف ایسے لوگوں کی تدبیریں کبھی کامیاب نہیں ہوتیں۔ مخالفین حق اپنی جن بنیادوں پر بھروسہ کررہے تھے عین وہی بنیادیں اس طرح کمزور ثابت ہوتی ہیں کہ ان کی چھت ان کے اوپر گرپڑتی ہے۔ کبھی ایسا ہوتاہے کہ کوئی قدرتی زلزلہ ان کی بنیادوں کو ہلاکر ان کی تعمیرات کو ان کے اوپر گرادیتاہے۔ کبھی ان کے عوام ان کا ساتھ چھوڑ کر حق کی صفوں میں شامل ہوجاتے ہیں۔ اور اس طرح وہ اپنے مددگاروں کو کھو کر مجبور ہوجاتے ہیں کہ دعوتِ حق کے آگے ہتھیار ڈال دیں۔ یہ انجام اپنی آخری اور تکمیلی صورت میں قیامت میں سامنے آئے گا۔ جب کہ منکرین اپنی ابدی ذلت کو دیکھیں گے اور کچھ نہ کرسکیں گے۔


Connections

  • Previous: 16_26
  • Next: 16_28
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes