Recitation

Next: 12_95


Arabic

وَلَمَّا فَصَلَتِ ٱلۡعِيرُ قَالَ أَبُوهُمۡ إِنِّي لَأَجِدُ رِيحَ يُوسُفَۖ لَوۡلَآ أَن تُفَنِّدُونِ


Urdu

جب یہ قافلہ (مصر سے) روانہ ہوا تو ان کے باپ نے (کنعان میں) کہا “میں یوسفؑ کی خوشبو محسوس کر رہا ہوں، تم لوگ کہیں یہ نہ کہنے لگو کہ میں بڑھاپے میں سٹھیا گیا ہوں


English

And when the caravan departed [from Egypt], their father said, “Indeed, I find the smell of Joseph [and would say that he was alive] if you did not think me weakened in mind


Tafsir — Bayan ul Quran

حضرت یوسف اپنے باپ سے جدا ہو کر 20 سال سے زیادہ مدّت تک پڑوسی ملک مصر میں رہے۔ مگر حضرت یعقوب کو اس کا علم نہ ہوسکا۔ البتہ آخر وقت میں آپ کا پیرہن مصر سے چلا تو آپ کو اس کے پہنچنے سے پہلے اس کی خوشبو محسوس ہونے لگی۔ اس سے معلوم ہوا کہ پیغمبروں کا علم ان کا ذاتی علم نہیں ہوتا بلکہ خدا کا عطیہ ہوتا ہے۔ اگر ذاتی علم ہوتا تو حضرت یعقوب پہلے ہی جان لیتے کہ ان کے صاحب زادے مصر میں ہیں۔ مگر ایسا نہیںہوا۔ آپ حضرت یوسف کے بارے میں صرف اس وقت مطلع ہوئے جب کہ اللہ نے آپ کو اس کی خبر دی۔ حضرت یعقوب کے ساتھ آپ کے خاندان والوں کی گفتگوئیں جو اس سورہ میں مختلف مقامات پر نقل ہوئی ہیں ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ خاندان والوں کی نظر میں حضرت یعقوب کووہ عظمت حاصل نہ تھی جو ایک پیغمبر کے لیے ہونی چاہیے۔ وہی لوگ جو ماضی کے بزرگوں کی پرستش کررہے ہوتے ہیں وہ زندہ بزرگوں کی عظمت ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مُردہ بزرگوں کے گرد ہمیشہ مبالغہ آمیز قصوں اور طلسماتی کہانیوں کا ہالہ بنا دیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ سے لوگوں کے ذہن میں ’’بزرگ‘‘ کی ایک مصنوعی تصویر بیٹھ جاتی ہے۔ چونکہ زندہ بزرگ اس مصنوعی تصویر کے مطابق نہیں ہوتا اس لیے وہ لوگوں کو بزرگ بھی نظر نہیں آتا۔


Connections

  • Previous: 12_93
  • Next: 12_95
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes