Recitation
Next: 12_66
Arabic
وَلَمَّا فَتَحُواْ مَتَٰعَهُمۡ وَجَدُواْ بِضَٰعَتَهُمۡ رُدَّتۡ إِلَيۡهِمۡۖ قَالُواْ يَـٰٓأَبَانَا مَا نَبۡغِيۖ هَٰذِهِۦ بِضَٰعَتُنَا رُدَّتۡ إِلَيۡنَاۖ وَنَمِيرُ أَهۡلَنَا وَنَحۡفَظُ أَخَانَا وَنَزۡدَادُ كَيۡلَ بَعِيرٖۖ ذَٰلِكَ كَيۡلٞ يَسِيرٞ
Urdu
پھر جب انہوں نے اپنا سامان کھولا تو دیکھا کہ ان کا مال بھی انہیں واپس کر دیا گیا ہے یہ دیکھ کر وہ پکار اٹھے “ابا جان، اور ہمیں کیا چاہیے، دیکھیے یہ ہمارا مال بھی ہمیں واپس دے دیا گیا ہے بس اب ہم جائیں گے اور اپنے اہل و عیال کے لیے رسد لے آئیں گے، اپنے بھائی کی حفاظت بھی کریں گے اور ایک بارشتر اور زیادہ بھی لے آئیں گے، اتنے غلہ کا اضافہ آسانی کے ساتھ ہو جائے گا
English
And when they opened their baggage, they found their merchandise returned to them. They said, “O our father, what [more] could we desire? This is our merchandise returned to us. And we will obtain supplies for our family and protect our brother and obtain an increase of a camel’s load; that is an easy measurement
Tafsir — Bayan ul Quran
گھر لوٹ کر جب انھوںنے دیکھا کہ ان کی رقم ان کی غلّہ کی بوری میں موجود ہے تو وہ بہت خوش ہوئے۔ انھوں نے اپنے والد سے کہا کہ آپ ضرور ہمارے ساتھ بن یامین کو جانے دیں۔ ہم اس کی پوری حفاظت کریں گے۔ اور اپنے حصہ کے علاوہ اس کے حصہ کا بھی مزید ایک اونٹ غلّہ لائیں گے۔ یہ غلّہ جو ہم لائے ہیں یہ تو اخراجات کے لیے تھوڑا ہے۔ حضرت یوسف نے تقسیم کا جو نظام قائم کیا تھا، اس کے تحت غالباً ایسا تھا کہ باہر کے ایک آدمی کو ایک اونٹ غلہ دیا جاتاتھا۔