Recitation

Next: 12_101


Arabic

وَرَفَعَ أَبَوَيۡهِ عَلَى ٱلۡعَرۡشِ وَخَرُّواْ لَهُۥ سُجَّدٗاۖ وَقَالَ يَـٰٓأَبَتِ هَٰذَا تَأۡوِيلُ رُءۡيَٰيَ مِن قَبۡلُ قَدۡ جَعَلَهَا رَبِّي حَقّٗاۖ وَقَدۡ أَحۡسَنَ بِيٓ إِذۡ أَخۡرَجَنِي مِنَ ٱلسِّجۡنِ وَجَآءَ بِكُم مِّنَ ٱلۡبَدۡوِ مِنۢ بَعۡدِ أَن نَّزَغَ ٱلشَّيۡطَٰنُ بَيۡنِي وَبَيۡنَ إِخۡوَتِيٓۚ إِنَّ رَبِّي لَطِيفٞ لِّمَا يَشَآءُۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلۡعَلِيمُ ٱلۡحَكِيمُ


Urdu

(شہر میں داخل ہونے کے بعد) اس نے اپنے والدین کو اٹھا کر اپنے پاس تخت پر بٹھایا اور سب اس کے آگے بے اختیار سجدے میں جھک گئے یوسفؑ نے کہا “ابا جان، یہ تعبیر ہے میرے اُس خواب کی جو میں نے پہلے دیکھا تھا، میرے رب نے اسے حقیقت بنا دیا اس کا احسان ہے کہ اُس نے مجھے قید خانے سے نکالا، اور آپ لوگوں کو صحرا سے لا کر مجھ سے ملایا حالانکہ شیطان میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان فساد ڈال چکا تھا واقعہ یہ ہے کہ میرا رب غیر محسوس تدبیروں سے اپنی مشیت پوری کرتا ہے، بے شک و ہ علیم اور حکیم ہے


English

And he raised his parents upon the throne, and they bowed to him in prostration. And he said, “O my father, this is the explanation of my vision of before. My Lord has made it reality. And He was certainly good to me when He took me out of prison and brought you [here] from bedouin life after Satan had induced [estrangement] between me and my brothers. Indeed, my Lord is Subtle in what He wills. Indeed, it is He who is the Knowing, the Wise


Tafsir — Bayan ul Quran

یہاں تخت سے مراد تخت شاہی نہیں ہے بلکہ وہ تخت ہے جس پر حضرت یوسف اپنے عہدہ کی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے لیے بیٹھتے تھے۔ سجدہ سے مراد بھی معروف سجدہ نہيں بلکہ رکوع کے انداز پر جھکنا ہے۔ کسی بڑے کی تعظیم کے لیے اس انداز میں جھکنا قدیم زمانہ میں بہت معروف تھا۔ ’’إِنَّ رَبِّي لَطِيفٌ لِمَا يَشَاءُ‘‘ کامطلب یہ ہے کہ میرا رب جس کام کو کرنا چاہے اس کے لیے وہ نہایت مخفی راہیں نکال لیتاہے۔ خدا اپنے منصوبہ کی تکمیل کے لیے ایسی تدبیریں پیدا کرلیتا ہے جس کی طرف عام انسانوں کا گمان بھی نہیں جاسکتا۔


Connections

  • Previous: 12_99
  • Next: 12_101
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes