Recitation
Next: 11_78
Arabic
وَلَمَّا جَآءَتۡ رُسُلُنَا لُوطٗا سِيٓءَ بِهِمۡ وَضَاقَ بِهِمۡ ذَرۡعٗا وَقَالَ هَٰذَا يَوۡمٌ عَصِيبٞ
Urdu
اور جب ہمارے فرشتے لوطؑ کے پاس پہنچے تو اُن کی آمد سے وہ بہت گھبرایا اور دل تنگ ہوا اور کہنے لگا کہ آج بڑی مصیبت کا دن ہے
English
And when Our messengers, [the angels], came to Lot, he was anguished for them and felt for them great discomfort and said, “This is a trying day
Tafsir — Bayan ul Quran
حضرت لوط کے پاس جو فرشتے آئے وہ عذاب کے فرشتے تھے۔ مگر وہ نہایت خوب صورت نوجوانوں کی صورت میں بستی کے اندر داخل ہوئے۔ یہ دراصل ان کو آخری طورپر مجرم ثابت کرنے کے لیے تھا۔ آدمی جب مسلسل ایک برائی کرتا ہے تو اس کے بارے میں وہ بالکل بے حس ہوجاتا ہے۔ یہی حال قوم لوط کا تھا۔ وہ اب کھلم کھلا بدکاری کرنے لگے تھے۔ چنانچہ جب انھوںنے دیکھا کہ خوبصورت لڑکے حضرت لوط کے گھر آئے ہوئے ہیں تو وہ شہوت کے جذبات ليے ہوئے آپ کے گھر کی طرف دوڑپڑے۔ انھوںنے انتہائی بے حیائی کے ساتھ مطالبہ شروع کردیا کہ ان لڑکوں کو ہمارے حوالے کردیا جائے۔ حضرت لوط نے شریر لوگوں کو اس طرح آتے ہوئے دیکھا تو آپ پر سخت شرم اور غیرت طاری ہوئی۔ آپ نے کہا ’’یہ قوم کی بیٹیاں ہیں، ان میں سے جس سے چاہو نکاح کرلو اور اپنی فطری خواہش پوری کرو‘‘۔ کسی قوم میں جو بڑے بوڑھے ہوتے ہیں وہ قوم کی تمام لڑکیوں کو بیٹی کہہ کر پکارتے ہیں۔ اسی معنی میں حضرت لوط نے قوم کی بیٹیوں کو ’’میری بیٹیاں‘‘ فرمایا۔مگر ان لوگوں نے حضرت لوط کی جائز پیش کش کو ٹھکرا دیا اور ناجائز کی طرف بدستور دوڑتے رہے۔ اس سے آخری طور پر ثابت ہوگیا کہ یہ مجرم لوگ ہیں اور یقیناً اس قابل ہیں کہ انھیں ہلاک کردیا جائے۔ چنانچہ اس کے بعد وہ سب کے سب ہلاک کرديے گئے۔ ’’کیا تم میں ایک بھی رجلِ رشید نہیں‘‘— یہ اس بندۂ خدا کا آخری کلمہ ہوتا ہے جس کے پاس شریر لوگوں کو روکنے کے لیے مادی قوت نہ ہو اور معقولیت کی تمام باتیں ان کو روکنے کے لیے ناکافی ثابت ہوئی ہوں۔ اس وقت اس طرح کا جملہ بول کر وہ قوم کی غیرت کو پکارتا ہے اور اس کے ضمیر کو بیدار کرنا چاہتا ہے۔ اس کے بعد بھی اگر ایسا ہو کہ لوگ بدستور بے حس بنے رہیں تو اس کا مطلب ہوتاہے کہ ان کے اندر انسانیت اور شرافت کاکوئی درجہ باقی نہیں رہا۔