Recitation

Next: 11_37


Arabic

وَأُوحِيَ إِلَىٰ نُوحٍ أَنَّهُۥ لَن يُؤۡمِنَ مِن قَوۡمِكَ إِلَّا مَن قَدۡ ءَامَنَ فَلَا تَبۡتَئِسۡ بِمَا كَانُواْ يَفۡعَلُونَ


Urdu

نوحؑ پر وحی کی گئی کہ تمہاری قوم میں سے جو لوگ ایمان لا چکے بس وہ لا چکے، اب کوئی ماننے والا نہیں ہے ان کے کرتوتوں پر غم کھانا چھوڑو


English

And it was revealed to Noah that, “No one will believe from your people except those who have already believed, so do not be distressed by what they have been doing


Tafsir — Bayan ul Quran

انسان سے جو ایمان مطلوب ہے وہ ایمان وہ ہے جب کہ آدمی شعوری طورپر اپنے آزادانہ فیصلہ سے ایمان قبول کرے۔ پیغمبر کے طویل دعوتی عمل کے باوجود جو لوگ ایمان نہ لائیں وہ ایسا کرکے یہ ثابت کرتے ہیں کہ وہ آزادانہ فیصلہ کے تحت خدا کے مومن بننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے دوسرا مرحلہ یہ ہوتاہے کہ ان کی آزادی چھین لی جائے اور ان کو لے جاکر براہِ راست خدائے ذوالجلال کے سامنے کھڑا کردیا جائے تاکہ جس چیز کا انھوں نے مومنانہ اقرار نہیں کیا تھا، اس کا وہ مجرمانہ اقرار کریں اور اپنی سرکشی کی سزا بھگتیں۔ حضرت نوح کی سیکڑوں سال کی تبلیغ کے بعد ان کی قوم کے لیے یہ وقت آگیا تھا۔ اس کے بعد حضرت نوح سے کہہ دیا گیا کہ اب تبلیغ کے کام سے فارغ ہو کر کشتی تیار کرو تاکہ جب سرکشوں کو غرق کرنے کے لیے خدا کا سیلاب آئے تو اس وقت تم اور تمھارے ساتھی اہل ایمان اس میں پناہ لے سکیں۔ حضرت نوح نے ایک بہت بڑی تین منزلہ کشتی تیار کی۔ اس کو بنانے میں کئی سال لگ گئے۔ جس زمانہ میں حضرت نوح اپنے چند ساتھیوں کو لے کر کشتی بنا رہے تھے تو قوم کے سرکش لوگ آتے جاتے ہوئے اسے دیکھتے۔ چوں کہ وہ لوگ عذاب کی بات کو محض فرضی سمجھ رہے تھے اس ليے جب انھوں نے دیکھا کہ آنے والے مفروضہ عذاب سے بچنے کے لیے کشتی بھی تیار کی جارہی ہے تووہ حضرت نوح کا اور بھی زیادہ مذاق اڑانے لگے۔ ایک آدمی سرکشی اور ناانصافی کے ذریعہ دولت سمیٹ رہا ہو تو ظاہر پرست آدمی اس کے گرد دنیا کا سازوسامان دیکھ کر اس کو کامیاب سمجھ لے گا۔ مگر جو شخص جانتا ہو کہ دنیا کا نظام اخلاقی قوانین پر چل رہا ہے، وہ مذکورہ شخص کی وقتی کامیابی میں مستقبل کی عظیم تباہی کا منظر دیکھ رہا ہوگا— قوم نوح کے ظاہر پرست لوگ اگر چہ حضرت نوح کا مذاق اڑا رہے تھے، مگر حقیقتِ واقعہ کی نظر میں خود ان کا مذاق اڑ رہا تھا۔


Connections

  • Previous: 11_35
  • Next: 11_37
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes