Recitation

Next: 11_36


Arabic

أَمۡ يَقُولُونَ ٱفۡتَرَىٰهُۖ قُلۡ إِنِ ٱفۡتَرَيۡتُهُۥ فَعَلَيَّ إِجۡرَامِي وَأَنَا۠ بَرِيٓءٞ مِّمَّا تُجۡرِمُونَ


Urdu

اے محمدؐ، کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ اِس شخص نے یہ سب کچھ خود گھڑ لیا ہے؟ ان سے کہو “اگر میں نے یہ خود گھڑا ہے تو مجھ پر اپنے جرم کی ذمہ داری ہے، اور جو جرم تم کر رہے ہو اس کی ذمہ داری سے میں بری ہوں


English

Or do they say [about Prophet Muhammad], “He invented it”? Say, “If I have invented it, then upon me is [the consequence of] my crime; but I am innocent of what [crimes] you commit


Tafsir — Bayan ul Quran

جو لوگ کہتے تھے کہ پیغمبر نے یہ کلام خود گھڑ لیا ہے، یہ خدا کی طرف سے نہیں ہے، وہ وحی والہام کے منکر نہ تھے۔ حتی کہ وہ ماضی کے رسولوں کو مانتے تھے۔ پھر انھوںنے ایسا کیوں کہا۔یہ دراصل وحی کا انکار نہیں تھابلکہ صاحب وحی کا انکار تھا۔ جو شخص خداکی طرف سے بول رہا تھا وہ دیکھنے میں ان کو ایک معمولی انسان دکھائی دیتا تھا۔ ان کا ظاہر پرست مزاج سمجھ نہیں پاتا تھا کہ ایسا ایک آدمی وہ شخص کیسے ہوسکتاہے جس کو خدا نے اپنے پيغام كي پیغام بری کے لیے چناہو۔ ’’میرا جرم میرے اوپر، تمھارا جرم تمھارے اوپر‘‘ یہ دارصل کلمہ رخصت ہے۔ جب مخاطب دلیل سے بات کو نہیں مانتا، ہر قسم کی وضاحت کے باوجود وہ انکار پر تلا ہوا ہے تو داعی محسوس کرتاہے کہ اس کے لیے اب آخری چارۂ کار صرف یہ ہے کہ وہ یہ کہہ کر خاموش ہوجائے کہ میں اور تم دونوں حاکم اصلی کے سامنے پیش ہونے والے ہیں۔ وہاں ہر ایک کاحال کھل جائے گا۔اور ہر آدمی اپنی حقیقت کے اعتبار سے جیسا تھا اس کے مطابق اسے بدلہ دیا جائے گا۔ جب دلیل کی حد ختم ہوجائے تو داعی کے لیے اس کے سوا کوئی صورت باقی نہیں رہتی کہ وہ یقین کی زبان میں کلام کرکے علیحدگی اختیار کرلے۔


Connections

  • Previous: 11_34
  • Next: 11_36
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes