Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
لَمۡ يَكُنِ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ مِنۡ أَهۡلِ ٱلۡكِتَٰبِ وَٱلۡمُشۡرِكِينَ مُنفَكِّينَ حَتَّىٰ تَأۡتِيَهُمُ ٱلۡبَيِّنَةُ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اہل کتاب اور مشرکین میں سے جو لوگ کافر تھے (وہ اپنے کفر سے) باز آنے والے نہ تھے جب تک کہ ان کے پاس دلیل روشن نہ آ جائے
English (Sahih International)
Those who disbelieved among the People of the Scripture and the polytheists were not to be parted [from misbelief] until there came to them clear evidence
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 1{ لَمْ یَکُنِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ وَالْمُشْرِکِیْنَ مُنْفَکِّیْنَ حَتّٰی تَاْتِیَہُمُ الْبَیِّنَۃُ۔ } ”نہیں تھے وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا تھا اہل کتاب میں سے اور مشرکین میں سے الگ ہونے والے یا باز آنے والے جب تک کہ ان کے پاس البیّنہنہ آجاتی۔“ ظاہر ہے وہ لوگ سیدھے راستے سے بھٹک کر گمراہی میں مبتلا ہوچکے تھے۔ اب جب تک ان کے سامنے کوئی بین واضح دلیل نہ آجاتی جس سے انہیں معلوم ہوجاتا کہ وہ گمراہ ہیں یا انہیں بہت واضح انداز میں بتا نہ دیا جاتا کہ وہ جس راہ پر چل رہے ہیں وہ راہ ہدایت نہیں ‘ اس وقت تک انہیں رشد و ہدایت کی راہ پر چلنے والوں سے علیحدہ نہیں کیا جاسکتا تھا۔ اس کا مفہوم یوں بھی ہوسکتا ہے کہ جب تک ان لوگوں کے پاس البینہ نہ آجاتی وہ اپنے کفر سے باز آنے والے نہیں تھے۔۔۔۔۔۔۔ مُنْفَکِّیْنَ : اِنْفِکاک فَکَّسے باب اِنْفعال سے ہے ‘ جس کا مفہوم ہے کسی چیز کا کسی چیز سے الگ ہوجانا ‘ جدا ہوجانا۔ وہ البیِّنہ کیا ہے ؟ اس کی وضاحت اگلی آیات میں کی جا رہی ہے :
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 1 to 8.
عرب کے مشرکین اور اہل کتاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتے تھے کہ آپ کوئی معجزہ دکھائیں۔ یا فرشتہ آسمان سے آ کر ہم سے کلام کرے تب ہم آپ کی رسالت مانیں گے۔ مگر اس قسم کا مطالبہ کرنے والے ہمیشہ غیر سنجیدہ ہوتے ہیں۔ چنانچہ پچھلے لوگوں نے اس طرح کے مطالبے کیے، مگر مطالبہ پورا ہونے کے باوجود وہ مومن نہ بن سکے۔
خدا کا دینِ قیم یہ ہے کہ آدمی ایک اللہ کی عبادت کرے۔ وہ دل سے اس کا چاہنے والا بن جائے۔ وہ نماز قائم کرے اور زکوۃ ادا کرے۔ یہی خدا کی طرف سے آنے والا اصل دین ہے۔ سب سے اچھے لوگ وہ ہیں جو اس دینِ قیم کو اختیار کریں۔ اور سب سے برے لوگ وہ ہیں جو اس دین قیم کو اختیار نہ کریں یا اس کے سوا کوئی اور دین وضع کریں اور اس خود ساختہ دین کو دین قیم کا نام دے دیں۔
Connections
- Previous: (Start of Surah)
- Next: 98_2
- Thematic: (add links here)