Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَأَمَّا مَنۢ بَخِلَ وَٱسۡتَغۡنَىٰ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اور جس نے بخل کیا اور (اپنے خدا سے) بے نیازی برتی
English (Sahih International)
But as for he who withholds and considers himself free of need
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 8{ وَاَمَّا مَنْم بَخِلَ } ”اور جس نے بخل کیا“ پہلی تین خصوصیات کی ترتیب ذہن میں رکھیے اور نوٹ کیجیے کہ ”اِعطاء“ کے مقابلے میں یہاں بخل آگیا ہے۔ { وَاسْتَغْنٰی۔ } ”اور بےپروائی اختیار کی۔“ بھلائی اور خیر کے راستے کی تین خصوصیات میں اعطاء کے بعد تقویٰ یعنی پھونک پھونک کر قدم رکھنے اور ذمہ داری کے احساس کا بیان تھا۔ اس کے مقابلے یہاں لاابالی پن ‘ لاپرواہی اور بےنیازی استغناء کا تذکرہ ہے۔ گویا ایک شخص حلال و حرام کی تمیز سے ناآشنا اور نیکی و بدی کے تصور سے بیگانہ اپنی دھن میں مست چلا جا رہا ہے۔ کسی کے جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہے تو اس کی بلا سے ‘ کسی کی عزت پر حرف آتا ہے تو آتا رہے ‘ کسی کے جان و مال کی حرمت پامال ہوتی ہے تو بھی پروا نہیں ! غرض اپنی سوچ ہے ‘ اپنی مرضی ہے اور اپنے کام سے کام ہے : ؎دریا کو اپنی موج کی طغیانیوں سے کام کشتی کسی کی پار ہو یا درمیاں رہے !
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
The commentary on this ayah is given with ayah 92:1.