Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَلَا تُعۡجِبۡكَ أَمۡوَٰلُهُمۡ وَأَوۡلَٰدُهُمۡۚ إِنَّمَا يُرِيدُ ٱللَّهُ أَن يُعَذِّبَهُم بِهَا فِي ٱلدُّنۡيَا وَتَزۡهَقَ أَنفُسُهُمۡ وَهُمۡ كَٰفِرُونَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
ان کی مالداری اور ان کی کثرت اولاد تم کو دھوکے میں نہ ڈالے اللہ نے تو ارادہ کر لیا ہے کہ اِس مال و اولاد کے ذریعہ سے ان کو اسی دنیا میں سزا دے اور ان کی جانیں اس حال میں نکلیں کہ وہ کافر ہوں
English (Sahih International)
And let not their wealth and their children impress you. Allah only intends to punish them through them in this world and that their souls should depart [at death] while they are disbelievers
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
This commentary covers ayaat 85 and 86.
آیت 85 وَلاَ تُعْجِبْکَ اَمْوَالُہُمْ وَاَوْلاَدُہُمْ ط یعنی آپ ﷺ ان کے مال اور اولاد کو وقعت مت دیجیے۔ یہ آیت اسی سورت میں 55 نمبر پر معمولی فرق کے ساتھ پہلے بھی آچکی ہے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 85 to 89.
منافق اپنے دنیا پرستانہ طریقوں کی وجہ سے اپنے آس پاس دنیا کا سازوسامان جمع کرلیتا ہے۔ اس کے ساتھ مددگاروں کی بھیڑ دکھائی دیتی ہے۔ یہ چیزیں سطحی قسم کے لوگوں کے ليے مرعوب کن بن جاتی ہیں ۔ لیکن گہری نظر سے دیکھنے والوں کے ليے اس کی ظاہری چمک دمک قابل رشک نہیں بلکہ قابل عبرت ہے۔ کیوں کہ یہ چیزیں جن لوگوں کے پاس جمع ہوں وہ ان کے ليے خدا کی طرف بڑھنے میں رکاوٹ بن جاتی ہیں ۔ خدا کا محبوب بندہ وہ ہے جو کسی تحفظ اور کسی مصلحت کے بغیر خدا کی طرف بڑھے۔ مگر جو لوگ دنیا کی رونقوں میں گھرے ہوئے ہوں وہ ان سے اوپر نہیں اٹھ پاتے جب بھی وہ خدا کی طرف بڑھنا چاہتے ہیں ان کو ایسا نظر آتا ہے کہ وہ اپنا سب کچھ کھو دیں گے۔ وہ اس قربانی کی ہمت نہیں کرپاتے، اس ليے وہ خدا کے وفادار بھی نہیں ہوتے۔ ان کی دنیوی ترقیاں ان کو اس بربادی کی قیمت پر ملتی ہیں کہ آخرت میں وہ بالکل محروم ہوکر حاضر ہوں ۔
ایسے لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ جب خدا کا دین کہتا ہے کہ اپنی اَنا (ego)کو دفن کرکے خدا کو پکڑو تو وہ اپنی بڑھی ہوئی اَنا کو دفن نہیں کرپاتے۔ جب خدا کا دین ان سے شہرت اور مقبولیت سے خالی راستوں پر چلنے کے ليے کہتا ہے تو وہ اپنی شہرت ومقبولیت کو سنبھالنے کی فکر میں پیچھے رہ جاتے ہیں ۔ جب خدا كے دين کی جدوجہد، زندگی اور مال کی قربانی مانگتی هے تو ان کو اپنی زندگی اور مال اتنے قیمتی نظر آتے ہیں کہ وہ اس کو غیر دنیوی مقصد کے ليے قربان نہ کرسکیں ۔
یہ کیفیت بڑھتے بڑھتے یہاں تک پہنچ جاتی ہے کہ ان کے دل کی حساسیت ختم ہوجاتی ہے۔ وہ بے حسی کا شکار ہو کر اس تڑپ کو کھو دیتے ہیں جو آدمی کو خدا کی طرف کھینچے اور غیر خدا پر راضی نہ ہونے دے۔
اس کے برعکس، جو سچے اہلِ ایمان ہیں وہ سب سے بڑا مقام خدا کو ديے ہوئے ہوتے ہیں ۔ اس ليے دوسری ہر چیزانھیں خدا کے مقابلے میں ہیچ نظر آتی ہے۔ وہ ہر قربانی دے کر خدا کی طرف بڑھنے کے ليے تیار رہتے ہیں ۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے ليے خدا کی رحمتیں اور نعمتیں ہیں ۔ ان کے اور خدا کی ابدی جنت کے درمیان موت کے سوا کوئی چیز حائل نہیں ۔