Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِيُّ جَٰهِدِ ٱلۡكُفَّارَ وَٱلۡمُنَٰفِقِينَ وَٱغۡلُظۡ عَلَيۡهِمۡۚ وَمَأۡوَىٰهُمۡ جَهَنَّمُۖ وَبِئۡسَ ٱلۡمَصِيرُ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اے نبیؐ، کفار اور منافقین دونوں کا پوری قوت سے مقابلہ کرو اور ان کے ساتھ سختی سے پیش آؤ آخر کار ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ بدترین جائے قرار ہے
English (Sahih International)
O Prophet, fight against the disbelievers and the hypocrites and be harsh upon them. And their refuge is Hell, and wretched is the destination
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 73 یٰٓاَیُّہَا النَّبِیُّ جَاہِدِ الْکُفَّارَ وَالْمُنٰفِقِیْنَ وَاغْلُظْ عَلَیْہِمْ ط یہ آیت بالکل انہی الفاظ کے ساتھ سورة التحریم میں بھی آئی ہے جو اٹھائیسویں پارے کی آخری سورت ہے۔ یہاں قابل غور نکتہ یہ ہے کہ اس آیت میں جہاد بمعنی قتال استعمال نہیں ہوا۔ منافقین کے ساتھ آپ ﷺ نے کبھی جنگ نہیں کی۔ لہٰذا یہاں جہاد سے مراد قتال سے نچلے درجے کی جدوجہد دُوْنَ الْقِتَالِ ہے کہ اے نبی ﷺ ! آپ منافقین کی ریشہ دوانیوں کا توڑ کرنے کے لیے جہاد کریں ‘ ان کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے جدوجہد کریں۔ چناچہ بعض روایات میں آتا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ غزوۂ تبوک سے واپس آ رہے تھے تو اسی حوالے سے آپ ﷺ نے فرمایا تھا : رَجَعْنَا مِنَ الْجِہَادِ الْاَصْغَرِ اِلَی الْجِہَادِ الْاَکْبَرِ 1 یعنی ہم چھوٹے جہاد سے بڑے جہاد کی طرف لوٹ آئے ہیں۔ اب اس کی تعبیریں مختلف کی گئی ہیں کہ اس زمانے کی سپر پاور سلطنت روما کے خلاف جہاد کو آپ ﷺ نے جہاد اصغر فرمایا اور پھر فرمایا کہ اب جہاد اکبر تمہارے سامنے ہے۔ عام طور پر اس حدیث کی توجیہہ اس طرح کی گئی ہے کہ نفس کے خلاف جہاد سب سے بڑا جہاد ہے۔ جیسا کہ ایک حدیث میں آتا ہے کہ ایک دفعہ جب آپ ﷺ سے پوچھا گیا : اَیُّ الْجِہَادِ اَفْضَلُ ؟ یعنی سب سے افضل جہاد کون سا ہے ؟ تو جواب میں آپ ﷺ نے فرمایا : اَنْ تُجَاہِدَ نَفْسَکَ وَھَوَاکَ فِیْ ذَات اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ 2 یہ کہ تم جہاد کرو اپنے نفس اور اپنی خواہشات کے خلاف اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں۔ لہٰذا اسی حدیث کی بنیاد پر جہاد اکبر والی مذکورہ حدیث کی تشریح اس طرح کی گئی ہے کہ جہاد با لنفس دشمن کے خلاف قتال سے بھی بڑا جہاد ہے۔ لیکن میرے نزدیک اس حدیث کا اصل مفہوم سمجھنے کے لیے اس کے موقع محل اور پس منظر کے حالات کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔ مدینہ کے اندر منافقین دراصل مسلمانوں کے حق میں مار آستین تھے۔ اب ان کے خلاف رسول اللہ ﷺ کو جہاد کا حکم دیا جا رہا ہے ‘ مگر یہ معاملہ اتنا آسان اور سادہ نہیں تھا۔ ان منافقین کے اوس اور خزرج کے لوگوں کے ساتھ تعلقات تھے اور ان کے خلاف اقدام کرنے سے اندرونی طور پر کئی طرح کے مسائل جنم لے سکتے تھے۔ مگر اس آیت کے نزول کے بعد تبوک سے واپس آکر آپ ﷺ نے منافقین کے خلاف اس طرح کے کئی سخت اقدامات کیے تھے۔ جیسے آپ ﷺ نے مسجد ضرار کو گرانے اور جلانے کا حکم دیا ‘ اور پھر اس پر عمل بھی کرایا۔ یہ بہت بڑا اقدام تھا۔ منافقین مسجد کے تقدس کے نام پر لوگوں کو مشتعل بھی کرسکتے تھے۔ دراصل یہی وہ بڑا جہاد تھا جس کی طرف مذکورہ حدیث میں اشارہ ملتا ہے ‘ کیونکہ ان حالات میں اپنی صفوں کے اندر چھپے ہوئے دشمنوں کے وار سے بچنا اور ان کے خلاف نبرد آزما ہونا مسلمانوں کے لیے واقعی بہت مشکل مرحلہ تھا۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 73 and 74.
ایک روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تقریباً 80 منافقین مدینہ میں موجود تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ منافقین سے جس جہاد کا حکم دیاگیا ہے، وہ جنگ کے معنی میں نہیں ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو آپ ان منافقین کا خاتمہ کرا دیتے۔ اس سے مراد دراصل وہ جہاد ہے جو زبان اور برتاؤ اور شدت احتساب کے ذریعہ کیا جاتاہے:وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:أُمِرَ بِالْجِهَادِ…مَعَ الْمُنَافِقِينَ بِاللِّسَانِ وَشِدَّةِ الزَّجْرِ وَالتَّغْلِيظِ (تفسیر القرطبی، جلد8، صفحہ
204
)۔ چنانچہ جمہور امت کے نزدیک منافقین کے مقابلہ میں جہاد بالسیف مشروع نہیں ہے۔
منافقت یہ ہے کہ آدمی اسلام کو اس طرح اختیار کرے کہ وہ اس کو مفادات اور مصلحتوں کے تابع كيے هوئے ہو۔ اس قسم کے لوگ جب دیکھتے ہیں کہ کچھ خدا کے بندے غیر مصلحت پرستانہ انداز میں اسلام کو اختیار کیے ہوئے ہیں اور اس کی طرف لوگوں کو دعوت دیتے ہیں تو ایسا اسلام انھیں اپنے اسلام کو بے وقعت ثابت کرتا ہوا نظر آتاہے۔ ایسے داعیوں سے انھیں سخت نفرت ہوجاتی ہے۔ وہ ان کو اکھاڑنے کے درپے ہوجاتے ہیں ۔ جس اسلام کے نام پر وہ اپنی تجارتیں قائم کرتے ہیں اسی اسلام کے داعیوں کے وہ دشمن بن جاتے ہیں ۔
منافقین کی یہ دشمنی سازش اور استہزاء کے انداز میں ظاہر ہوتی ہے۔ اگر وہ کسی کو دیکھتے ہیں کہ اس کے اندر کسی وجہ سے سچے اسلام کے داعیوں کے بارے میں مخالفانہ جذبات ہیں تو وہ اس کو ابھارتے ہیں تاکہ وہ ان سے لڑ جائیں ۔ وہ مخلص اہلِ ایمان کا مذاق اڑاتے ہیں ۔ وہ ایسی باتیں کہتے ہیں جس سے ان کی قربانیاں بے حقیقت معلوم ہونے لگیں ۔ وہ ان کی معمولی باتوں کو اس طرح بگاڑ کر پیش کرتے ہیں کہ عوام میں ان کی تصویر خراب ہو جائے۔ تبوک کے سفر میں ایک بار ایسا ہوا کہ ایک پڑاؤ کے مقام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی گم ہوگئی۔ کچھ مسلمان اس کو تلاش کرنے کے ليے نکلے۔ یہ بات منافقوں کو معلوم ہوئی تو انھوں نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا: یہ صاحب ہم کو آسمان کی خبریں بتاتے ہیں ۔ مگر ان کو اپنی اونٹنی کی خبر نہیں کہ وہ اس وقت کہاں ہے۔
منافق مسلمان سچے اسلام کے داعیوں کو ناکام کرنے کے ليے شیطان کے آلۂ کار بنتے ہیں ۔ مگر سچے اسلام کے داعیوں کا مدد گار ہمیشہ خدا ہوتاہے۔ وہ منافقوں کی تمام سازشوں کے باوجود ان کو بچا لیتاہے۔ اور منافقین کا انجام یہ ہوتاہے کہ وہ اپنے جرم ثابت کرکے اس کے مستحق بنتے ہیں کہ ان کو دنیا میں بھی عذاب دیا جائے اور آخرت میں بھی۔