Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
ٱلۡمُنَٰفِقُونَ وَٱلۡمُنَٰفِقَٰتُ بَعۡضُهُم مِّنۢ بَعۡضٖۚ يَأۡمُرُونَ بِٱلۡمُنكَرِ وَيَنۡهَوۡنَ عَنِ ٱلۡمَعۡرُوفِ وَيَقۡبِضُونَ أَيۡدِيَهُمۡۚ نَسُواْ ٱللَّهَ فَنَسِيَهُمۡۚ إِنَّ ٱلۡمُنَٰفِقِينَ هُمُ ٱلۡفَٰسِقُونَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
منافق مرد اور منافق عورتیں سب ایک دوسرے کے ہم رنگ ہیں برائی کا حکم دیتے ہیں اور بھلائی سے منع کرتے ہیں اور اپنے ہاتھ خیر سے روکے رکھتے ہیں یہ اللہ کو بھول گئے تو اللہ نے بھی انہیں بھلا دیا یقیناً یہ منافق ہی فاسق ہیں
English (Sahih International)
The hypocrite men and hypocrite women are of one another. They enjoin what is wrong and forbid what is right and close their hands. They have forgotten Allah, so He has forgotten them [accordingly]. Indeed, the hypocrites - it is they who are the defiantly disobedient
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 67 اَلْمُنٰفِقُوْنَ وَالْمُنٰفِقٰتُ بَعْضُہُمْ مِّنْم بَعْضٍ 7 ان سب منافقین کا آپس میں گٹھ جوڑ ہے ‘ اندر سے یہ سب ایک ہیں۔یَاْمُرُوْنَ بالْمُنْکَرِ وَیَنْہَوْنَ عَنِ الْمَعْرُوْفِ یعنی اللہ کے احکام کے خلاف یہ لوگ امر با لمنکر اور نہی عن المعروف کی پالیسی پر عمل کر رہے ہیں۔ دوسروں سے ہمدردی جتا کر انہیں نیکی سے روکنے کی کوشش کرتے ہیں کہ دیکھو اپنے خون پسینے کی کمائی کواِدھر ادھر مت ضائع کرو ‘ بلکہ اسے اپنے اور اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے سنبھال کر رکھو۔وَیَقْبِضُوْنَ اَیْدِیَہُمْ ط یعنی اللہ کے راستے میں خرچ نہیں کرتے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 67 to 70.
پہلے لوگوں کو خدا نے جاہ ومال دیا تو انھوں نے اس سے فخر اور گھمنڈ اور بے حسی کی غذا لی۔ تاہم بعد والوں نے ان کے انجام سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ انھوں نے بھی دنیا کے سازوسامان سے اپنے ليے وہی حصہ پسند کیا جس کو ان کے پچھلوں نے پسند کیا تھا۔ یہی ہر دور میں عام آدمی کا حال رہاہے۔ وہ حق کے تقاضوں کو کوئی اہمیت نہیں دیتا۔ مال واولاد کے تقاضے ہی اس کے نزدیک سب سے بڑی چیز ہوتے ہیں ۔
منافق کا حال بھی باعتبار حقیقت یہی ہوتاہے۔ وہ ظاہری طورپر تو مسلمانوں جیسا نظر آتا ہے مگر اس کے جینے كي سطح وہی ہوتی ہے جو عام دنیا داروں کی سطح ہوتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتاہے کہ بعض نمائشی اعمال کو چھوڑ کر حقیقی زندگی میں وہ ویسا ہی ہوتاہے جیسے عام دنیا دار ہوتے ہیں ۔ منافق کي قلبی دلچسپیاں دین دار کے مقابلہ میں دنیا داروں سے زیادہ وابستہ ہوتی ہیں ۔ آخرت کی مد میں خرچ کرنے سے اس کا دل تنگ ہوتا ہے مگر بے فائدہ دنیوی مشاغل میں خرچ کرنا ہو تو وہ بڑھ چڑھ کر اس میں حصہ لیتا ہے۔ حق کا فروغ اس کو پسند نہیں آتا البتہ ناحق کا فروغ ہو تو اس کو وہ شوق سے گوارا کرتاہے۔ ظاہری دین داری کے باوجود وہ خدا اور آخرت کو اس طرح بھولا رہتا ہے جیسے اس کے نزدیک خدا اور آخرت کی کوئی حقیقت نہیں ۔
ایسے لوگ اپنے ظاہری اسلام کی بناپر خداکی پکڑ سے بچ نہیں سکتے۔ دنیا میں ان کے لیے لعنت ہے اور آخرت میں ان کے ليے عذاب۔ دنیا میں بھی وہ خدا کی رحمتوں سے محروم رہیں گے اور آخرت میں بھی۔
خدا کے ساتھ کامل وابستگی ہی وہ چیز ہے جو آدمی کے عمل میں قیمت پیدا کرتی ہے۔ کامل وابستگی کے بغیر جو عمل کیا جائے، خواہ وہ بظاہر دینی عمل کیوں نہ ہو، وہ آخرت میں اسی طرح بے قیمت قرار پائے گا جیسے روح کے بغیر کوئی جسم، جو جسم سے ظاہری مشابہت کے باوجود عملاً بے قیمت ہوتا ہے۔