Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
قُلۡ أَنفِقُواْ طَوۡعًا أَوۡ كَرۡهٗا لَّن يُتَقَبَّلَ مِنكُمۡ إِنَّكُمۡ كُنتُمۡ قَوۡمٗا فَٰسِقِينَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
ان سے کہو “تم اپنے مال خواہ راضی خوشی خرچ کرو یا بکراہت، بہر حال وہ قبول نہ کیے جائیں گے کیونکہ تم فاسق لوگ ہو
English (Sahih International)
Say, “Spend willingly or unwillingly; never will it be accepted from you. Indeed, you have been a defiantly disobedient people
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 53 قُلْ اَنْفِقُوْا طَوْعًا اَوْ کَرْہًا لَّنْ یُّتَقَبَّلَ مِنْکُمْ ط اِنَّکُمْ کُنْتُمْ قَوْمًا فٰسِقِیْنَ یہاں منافقین کے ایک دوسرے حربے کا ذکر ہے کہ کچھ مال اسباب چندے کے طور پر لے آئے اور بہانہ بنایا کہ مجھے فلاں فلاں مجبوری ہے ‘ میں خود تو جانے سے معذور ہوں ‘ مجھے رخصت دے دیں اور یہ سازو سامان قبول کرلیں۔ ایسی صورت حال کے جواب میں فرمایا جا رہا ہے کہ اب جبکہ جہاد کے لیے بنفس نفیس نکلنا فرض عین ہے ‘ اس صورت حال میں روپیہ پیسہ اور سازو سامان اس کا بدل نہیں ہوسکتا۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 53 to 57.
مدینہ میں یہ صورت پیش آئی کہ عمومی طورپر لوگوں نے اسلام قبول کرلیا۔ ان میں اکثریت مخلص اہل ایمان کی تھی تاہم ایک تعداد وہ تھی جس نے وقت کی فضا کا ساتھ دیتے ہوئے اگرچہ اسلام قبول کرلیا تھا لیکن اس کے اندر وہ سپردگی پیدا نہیں ہوئی تھی جو حقیقی ایمان اور سچے تعلق باللہ کا تقاضا ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کو منافقین کہاجاتا ہے۔
يه منافقین زیادہ تر مدینہ کے مال دار لوگ تھے اور یہی مال داری ان کے نفاق کا اصل سبب تھی۔ جس کے پاس کھونے کے ليے کچھ نہ ہو وہ زیادہ آسانی کے ساتھ اسلام کو اختیار کرنے کے لیے تیار ہوجاتا ہے جس میں اپنا سب کچھ کھو دینا پڑے۔ مگر جن لوگوں کے پاس کھونے کے ليے ہو وہ عام طورپر مصلحت اندیشی میں مبتلا ہوجاتے ہیں ۔ اسلام کے بے ضرر احکام کی تعمیل تو وہ کسی نہ کسی طرح کرلیتے ہیں ۔ مگر اسلام کے جن تقاضوں کو اختیار کرنے میں جان ومال کی محرومی دکھائی دے رہی ہو، جس میں قربانی کی سطح پر مومن بننے کا سوال ہو، ان کی طرف بڑھنے کے ليے وہ اپنے کو آمادہ نہیں کر پاتے۔
مگر قربانی والے اسلام سے پیچھے رہنا ان کے ’’نماز روزہ‘‘ کو بھی بے قیمت کردیتا ہے۔ مسجد کی عبادت کا بہت گہرا تعلق مسجدکے باہر کی عبادت سے ہے۔ اگر مسجد سے باہر آدمی کی زندگی حقیقی دین سے خالی ہو تو مسجد کے اندر بھی اس کی زندگی حقیقی دین سے خالی ہوگی اور ظاہر ہے کہ بے روح عمل کی خدا کے نزدیک کوئی قیمت نہیں ۔ خدا سچے عمل کو قبول کرتا ہے، نہ کہ جھوٹے عمل کو۔
کسی آدمی کے پاس دولت کی رونقیں ہوں اور آدمیوں کا جـتھا اس کے گردو پیش دكھائی دیتا ہو تو عام لوگ اس کو رشک کی نظر سے دیکھنے لگتے ہیں ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ایسے لوگ سب سے زیادہ بدقسمت لوگ ہیں ۔ عام طور پر ان کا جو حال ہوتا ہے وہ یہ کہ مال وجاہ ان کے ليے ایسے بندھن بن جاتے ہیں کہ وہ خدا کے دین کی طرف بھر پور طور پر نہ بڑھ سکیں ۔ وہ خدا کو بھول کر ان میں مشغول رہیں یہاں تک کہ موت آجائے اور وه بے رحمی کے ساتھ ان کو ان کے مال و جاہ سے جدا کردے۔