Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 9:44 Prev 9:42


Arabic

عَفَا ٱللَّهُ عَنكَ لِمَ أَذِنتَ لَهُمۡ حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكَ ٱلَّذِينَ صَدَقُواْ وَتَعۡلَمَ ٱلۡكَٰذِبِينَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

اے نبیؐ، اللہ تمہیں معاف کرے، تم نے کیوں انہیں رخصت دے دی؟ (تمہیں چاہیے تھا کہ خود رخصت نہ دیتے) تاکہ تم پر کھل جاتا کہ کون لوگ سچے ہیں اور جھوٹوں کو بھی تم جان لیتے


English (Sahih International)

May Allah pardon you, [O Muhammad]; why did you give them permission [to remain behind]? [You should not have] until it was evident to you who were truthful and you knew [who were] the liars


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 43 عَفَا اللّٰہُ عَنْکَ ج لِمَ اَذِنْتَ لَہُمْ یعنی آپ ﷺ کے پاس کوئی منافق آیا اور اپنی کسی مجبوری کا بہانہ بنا کر جہاد سے رخصت چاہی تو آپ ﷺ نے اپنی نرم مزاجی کی وجہ سے اسے اجازت دے دی۔ اب اس شخص کو تو گویا سند مل گئی کہ میں نے حضور ﷺ سے رخصت لی ہے۔ جہاد کے لیے نکلنے کا ارادہ تو اس کا تھا ہی نہیں ‘ مگر اجازت مل جانے سے اس کی منافقت کا پردہ چاک نہیں ہوا۔ اجازت نہ ملتی تو واضح طور پر معلوم ہوجاتا کہ اس نے حضور ﷺ کے حکم کی نافرمانی کی ہے۔ اس طرح کئی منافقین آئے اور اپنی مجبوریوں کا بہانہ بنا کر آپ ﷺ سے رخصت لے گئے۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 43 to 46.

منافق وہ ہے جو اسلام کے نفع بخش یا بے ضرر پہلوؤں میں آگے آگے رہے مگر جب اس کے مفادات پر زد پڑتی نظر آئے تو وہ پیچھے ہٹ جائے۔ ایسے مواقع پر اس قسم کے کمزور لوگ جس چیز کا سہارا لیتے ہیں وہ عذر ہے۔ وہ اپنی بے عملی کو خوبصورت توجیہات میں چھپانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ مسلمانوں کا سربراہ اگر اجتماعی مصالح کے پیش نظر ان کے عذر کو قبول کرلے تو وہ خوش ہوتے ہیں کہ انھوں نے اپنے الفاظ کے پردے میں نہایت کامیابی کے ساتھ اپنی بے عملي کو چھپا لیا۔ مگر وہ بھول جاتے ہیں کہ اصل معاملہ انسان سے نہیں بلکہ خدا سے ہے۔ اور وہ ہر آدمی کی حقیقت کو اچھی طرح جانتا ہے۔ خدا ایسے لوگوں کا راز کبھی دنیا میں کھول دیتا ہے اور آخرت میں تو بہر حال ہر ایک کا راز کھولا جانے والا ہے۔

کسی کا لڑکا بیمار ہو یا کسی کی لڑکی کی شادی ہو تو اس وقت وہ اپنے آپ کو اور اپنے مال کو اس سے بچا کر نہیں رکھتا۔ اس کی زندگی اور اس کا مال تو اسی ليے ہے کہ ایسا کوئی موقع آئے تو وہ اپنا سب کچھ نثار کرکے ان کے کام آسکے۔ ایسا کوئی وقت اس کے ليے بڑھ کر قربانی دینے کا ہوتا ہے، نہ کہ عذرات کی آڑ تلاش کرنے کا۔ یہی معاملہ دین کا بھی ہے۔ جو شخص اپنے دین میں سنجیدہ ہو وہ دین کے ليے قربانی کا موقع آنے پر کبھی عذر تلاش نہیں کرے گا۔ اس کے سینے میں جو ایمانی جذبات بے قرار تھے وہ تو گویا اسی دن کے انتظار میں تھے کہ جب کوئی موقع آئے تو وہ اپنے آپ کو نثار کرکے خدا کی نظر میں اپنے کو وفادار ثابت کرسکے۔ پھر ایسا موقع پیش آنے پر وہ عذر کا سہارا کیوں ڈھونڈے گا۔

مومن خدا سے ڈرنے والا ہوتا ہے اور ڈر کا جذبہ آدمی کے اندر سب سے زیادہ قوی جذبہ ہے۔ ڈر کا جذبہ دوسرے تمام جذبات پر غالب آجاتاہے۔ جس چیز سے آدمی کو ڈر اور اندیشہ کا تعلق ہو اس کے بارے میں وہ آخری حد تک سنجیدہ اور حقیقت پسند ہوجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب کوئی شخص ڈر کی سطح پر خدا کا مومن بن جائے تو اس کو یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگتی کہ کس موقع پر اسے کس قسم کا رد عمل پیش کرناچاہيے۔

آخرت کا نفع سامنے نہ ہونے کی وجہ سے آدمی اس کے ليے قربانی دینے میں شک میں پڑ جاتا ہے۔ مگر اس شک کے پردہ کو پھاڑنا ہی اس دنیا میں آدمی کا اصل امتحان ہے۔


Connections

  • Previous: 9_42
  • Next: 9_44
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes