Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 9:37 Prev 9:35


Arabic

إِنَّ عِدَّةَ ٱلشُّهُورِ عِندَ ٱللَّهِ ٱثۡنَا عَشَرَ شَهۡرٗا فِي كِتَٰبِ ٱللَّهِ يَوۡمَ خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ مِنۡهَآ أَرۡبَعَةٌ حُرُمٞۚ ذَٰلِكَ ٱلدِّينُ ٱلۡقَيِّمُۚ فَلَا تَظۡلِمُواْ فِيهِنَّ أَنفُسَكُمۡۚ وَقَٰتِلُواْ ٱلۡمُشۡرِكِينَ كَآفَّةٗ كَمَا يُقَٰتِلُونَكُمۡ كَآفَّةٗۚ وَٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّ ٱللَّهَ مَعَ ٱلۡمُتَّقِينَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

حقیقت یہ ہے کہ مہینوں کی تعداد جب سے اللہ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا ہے اللہ کے نوشتے میں بارہ ہی ہے، اور ان میں سے چار مہینے حرام ہیں یہی ٹھیک ضابطہ ہے لہٰذا ان چار مہینوں میں اپنے اوپر ظلم نہ کرو اور مشرکوں سے سب مل کر لڑو جس طرح وہ سب مل کر تم سے لڑتے ہیں اور جان رکھو کہ اللہ متقیوں ہی کے ساتھ ہے


English (Sahih International)

Indeed, the number of months with Allah is twelve [lunar] months in the register of Allah [from] the day He created the heavens and the earth; of these, four are sacred. That is the correct religion, so do not wrong yourselves during them. And fight against the disbelievers collectively as they fight against you collectively. And know that Allah is with the righteous [who fear Him]


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 36 اِنَّ عِدَّۃَ الشُّہُوْرِ عِنْدَ اللّٰہِ اثْنَا عَشَرَ شَہْرًا فِیْ کِتٰبِ اللّٰہِ یَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ اللہ کے قائم کردہ تکوینی نظام اور تشریعی قانون کے تحت مہینوں کی تعداد بارہ مقرر کی گئی ہے۔مِنْہَآ اَرْبَعَۃٌ حُرُمٌ ط ان چار مہینوں ذو القعدہ ‘ ذو الحجہ ‘ محرم اور رجب کو اشہر حرم کہتے ہیں اور ان میں جنگ وغیرہ جائز نہیں۔ذٰلِکَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُج فَلاَ تَظْلِمُوْا فِیْہِنَّ اَنْفُسَکُمْ قانون خداوندی کے مطابق یہ چار مہینے شروع سے محترم ہیں ‘ لہٰذا تم لوگ ان مہینوں کے بارے میں اپنے اوپر ظلم نہ کرو۔ اس میں قریش کے اس رواج کی طرف اشارہ ہے جس کے تحت وہ محترم مہینوں کو اپنی مرضی سے بدلتے رہتے تھے۔ کسی مہم یا لڑائی کے دوران میں اگر کوئی ماہ حرام آجاتا تو اس مہینے کے احترام میں جنگ وجدال بند کرنے کے بجائے وہ اعلان کردیتے کہ اس سال اس مہینے کے بجائے فلاں مہینہ ماہ حرام کے طور پر منایا جائے گا۔ اس طرح انہوں نے پورا کیلنڈر گڈ مڈ کر رکھا تھا۔ لیکن مہینوں کے ادل بدل اور الٹ پھیر سے گزرتے ہوئے قدرت خداوندی سے 10 ہجری میں کیلنڈر واپس اپنی اصلی حالت پر پہنچ گیا تھا۔ اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے اپنے خطبۂ حجۃ الوداع میں فرمایا تھا : اِنَّ الزَّمَانَ قَدِ اسْتَدَارَ کَھَیْءَتِہٖ یَوْمَ خَلَقَ اللّٰہُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ۔۔ 1 یعنی زمانے کی یہ تقویم کیلنڈر پورا چکر لگا کر ساری غلطیوں اور ترامیم میں سے گزرتے ہوئے اب ٹھیک اسی جگہ پر پہنچ گئی ہے جس پر اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا تھا۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 36 and 37.

دینی احکام پر ہر شخص الگ الگ بھی عمل کرسکتا ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ کو یہ مطلوب ہے کہ تمام اہل ایمان ایک ساتھ ان پر عمل کریں تا کہ ان میں اجتماعیت پیدا ہو۔ اسی اجتماعیت کے مقصد کو حاصل کرنے کی خاطر عبادات کی ادائیگی کے ليے متعین اوقات اور تاریخیں مقرر کی گئی ہیں ۔ یہ تاریخیں اگر شمسی کیلنڈر کے اعتبار سے رکھی جائیں تو ان کے زمانہ میں یکسانیت آجاتی ۔ مثلاً روزہ ہمیشہ ایک موسم میں آتا اور حج ہمیشہ ایک موسم میں ۔ مگر یکسانیت آدمی کے اندر جمود پیدا کرتی ہے اور تبدیلی سے نئی قوت عمل بیدار ہوتی ہے۔ اس بنا پر دینی امور کے اجتماعی نظام کے ليے چاند کا قدرتی کیلنڈر اختیار کیا گیا۔

اسی اصول کی وجہ سے حج کی تاریخیں مختلف موسموں میں آتی ہیں ، کبھی سردیوں میں اور کبھی گرمیوں میں ۔ قدیم زمانہ میں جب کہ حج کا اجتماع زبردست تجارتی اہمیت رکھتا تھا۔ مختلف موسموں میں حج کا آنا تجارتی اعتبار سے مضر معلوم ہوا۔ اہل عرب کو دینی مصلحتوں کے مقابلہ میں دنيوی مصلحتیں زیادہ اہم نظر آئیں ۔ انہوں نے چاہا کہ ایسی صورت اختیار کریں کہ حج کی تاریخ ہمیشہ ایک ہی موافق موسم میں پڑے۔ اس موقع پر یہودو نصاریٰ کا کبیسہ کاحساب ان کے علم میں آیا۔ اپنی خواہشوں کے عین مطابق ہونے کی وجہ سے وہ ان کو پسند آگیا اور انہوں نےاس کو اپنے یہاں رائج کرلیا۔ یعنی مہینو ں کو ہٹا کر ایک کی جگہ دوسرے کو رکھ دینا۔ مثلاً محرم کو صفر کی جگہ کردینا اور صفر کو محرم کی جگہ۔

نسئی کے اس طریقے سے اہل عرب کو دو فائدے ہوئے۔ ایک یہ کہ حج کے موسم کو تجارتی تقاضے کے مطابق کرلینا۔ دوسرے یہ کہ حرام مہینوں ( محرم، رجب، ذو القعدہ، ذو الحجہ) میں کسی کے خلاف لڑائی چھیڑنا ہو تو حرام مہینہ کی جگہ غیر حرام مہینہ رکھ کر لڑائی کو جائز كرلینا۔ اہل عرب کے سامنے حضرت ابراہیم کا طریقہ بھی تھا۔ مگر ان کے ذہن پر چونکہ تجارتی مقاصد اور قبائلی تقاضوں کا غلبہ تھا۔ اس ليے ان کونسئی کا طریقہ زیادہ اچھا معلوم ہوا اور انہوں نے اپنے معاملات کے ليے اس کو اختیار کرلیا۔

’’تم بھی مل کر لڑو جس طرح وہ مل کر لڑتے ہیں ‘‘۔اس کا مطلب یہ ہے کہ کافر لوگ خدا سے بے خوفی پر متحد ہوجاتے ہیں ، تم خدا سے خوف ( تقویٰ) پر متحد ہوجاؤ۔ وہ منفی مقاصد کے ليے باہم جڑ جاتے ہیں تم مثبت مقاصد کے ليے آپس میں جڑجاؤ۔ وہ دنیا کی خاطر ایک ہوجاتے ہیں تم آخرت کی خاطر ایک ہوجاؤ۔


Connections

  • Previous: 9_35
  • Next: 9_37
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes