Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 9:26 Prev 9:24


Arabic

لَقَدۡ نَصَرَكُمُ ٱللَّهُ فِي مَوَاطِنَ كَثِيرَةٖ وَيَوۡمَ حُنَيۡنٍ إِذۡ أَعۡجَبَتۡكُمۡ كَثۡرَتُكُمۡ فَلَمۡ تُغۡنِ عَنكُمۡ شَيۡـٔٗا وَضَاقَتۡ عَلَيۡكُمُ ٱلۡأَرۡضُ بِمَا رَحُبَتۡ ثُمَّ وَلَّيۡتُم مُّدۡبِرِينَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

اللہ اس سے پہلے بہت سے مواقع پر تمہاری مدد کر چکا ہے ابھی غزوہ حنین کے روز (اُس کی دستگیری کی شان تم دیکھ چکے ہو) اس روز تمہیں اپنی کثرت تعداد کا غرہ تھا مگر وہ تمہارے کچھ کام نہ آئی اور زمین اپنی وسعت کے باوجود تم پر تنگ ہو گئی اور تم پیٹھ پھیر کر بھاگ نکلے


English (Sahih International)

Allah has already given you victory in many regions and [even] on the day of Hunayn, when your great number pleased you, but it did not avail you at all, and the earth was confining for you with its vastness; then you turned back, fleeing


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

This commentary covers ayaat 25 to 27.

آیت 25 لَقَدْ نَصَرَکُمُ اللّٰہُ فِیْ مَوَاطِنَ کَثِیْرَۃٍلا وَّیَوْمَ حُنَیْنٍلا جیسا کہ قبل ازیں بیان ہوچکا ہے ‘ پہلے ‘ چوتھے اور پانچویں رکوع پر مشتمل یہ خطبہ ذوالقعدہ 9 ہجری میں نازل ہوا تھا ‘ جبکہ اس سے پہلے غزوۂ حنین شوال 8 ہجری میں وقوع پذیر ہوچکا تھا۔اِذْ اَعْجَبَتْکُمْ کَثْرَتُکُمْ معاملہ یوں نہیں تھا کہ لشکر میں شامل تمام مسلمانوں کو اپنی کثرت پر ناز اور فخر محسوس ہو رہا تھا۔ غزوۂ حنین میں مسلمانوں کی تعداد بارہ ہزار تھی ‘ جو اس سے پہلے کبھی کسی غزوہ میں اکٹھی نہیں ہوئی تھی۔ ان میں سے دس ہزار مسلمان تو وہ تھے جو فتح مکہ کے وقت حضور ﷺ کے ہمراہ تھے ‘ اور دو ہزار لوگ مکہ سے شامل ہوئے تھے۔ مکہ سے شامل ہونے والوں میں اکثر یت ان نو مسلموں کی تھی جو مکہ فتح ہوجانے کے بعد ایمان لائے تھے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ان میں کچھ مشرک بھی ہوں جو اب مسلمانوں کی رعایا ہونے کے باعث معاونین اور خاد مین کی حیثیت سے لشکر میں شامل ہوگئے ہوں۔ مسلمانوں کی یہ لشکر کشی ہوازن اور ثقیف کے قبائل کے خلاف تھی جو طائف اور اس کے ارد گرد کی شاداب وادیوں میں آباد تھے۔ مسلمان اس سے قبل بارہا قلیل تعداد اور معمولی اسلحہ سے کفار کی بڑی بڑی فوجوں کو شکست دے چکے تھے۔ چناچہ بعض مسلمانوں کی زبان سے اپنی کثرت کے زعم میں یہ الفاظ نکل گئے کہ آج مسلمانوں پر کون غالب آسکتا ہے ! دوسری طرف ہوازن اور ثقیف کے قبائل نے پہلے سے اپنے تیرانداز دستے پہاڑیوں اور گھاٹیوں پر تعینات کر رکھے تھے اور موزوں مقامات پر صف آرائی کرلی تھی۔ یہ لوگ بڑے ماہر تیر انداز تھے۔ مسلمانوں کا لشکر جب وادئ حنین میں پہنچا تو پہاڑیوں پر موجود تیر اندازوں نے تیروں کی بوچھاڑ کردی۔ لشکر نشیب میں تھا ‘ تیر بلندی سے آ رہے تھے اور دونوں طرف سے آ رہے تھے۔ اس سے لشکر میں بھگدڑ مچ گئی اور بارہ ہزار کا لشکر جرار تتر بتر ہوگیا۔ جب ہراول دستے سے لوگ اضطراری کیفیت میں پلٹ کر بھاگے تو ریلے کی صورت میں بہت سے دوسرے لوگوں کو بھی اپنے ساتھ دھکیلتے چلے گئے۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ صرف 30 یا 40 آدمی رہ گئے تھے۔ علامہ شبلی رح نے سیرت النبی ﷺ میں یہی لکھا ہے کہ 30 ‘ 40 آدمی رہ گئے تھے ‘ لیکن سید سلیمان ندوی رح نے بعد میں اپنے استاد کی رائے پر اختلافی نوٹ لکھا کہ تین سو یا چار سو آدمی آپ ﷺ کے ساتھ رہ گئے تھے۔ لیکن بارہ ہزار کے لشکر میں سے تین یا چار سو آدمیوں کا رہ جانا بھی کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا۔ اس صورت حال میں حضور ﷺ اپنی سواری سے نیچے اترآئے ‘ آپ ﷺ نے علم خود اپنے ہاتھ میں لیا اور بآواز بلند رجز پڑھا : اَنَا النَّبِیُّ لا کَذِب اَنَا ابْنُ عَبْدِ المُطَّلِبکہ میں نبی ہوں اس میں کوئی شک نہیں ! یعنی میں یقیناً نبی ہوں ‘ چاہے یہ بارہ ہزار لوگ میرا ساتھ دیں تب بھی ‘ اور اگر کوئی بھی ساتھ نہ دے تب بھی۔ اور میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں ‘ یعنی میں عبدالمطلب کا پوتا میدان جنگ میں بنفس نفیس موجود ہوں۔ پھر آپ ﷺ نے لوگوں کو پکارا : اِلَیَّ یَاعِبَاد اللّٰہِ ! اللہ کے بندو ‘ میری طرف آؤ ! اس کے بعد آپ ﷺ نے قریب ہی موجود اپنے چچا حضرت عباس رض کو ‘ جن کی آواز کافی بلند تھی ‘ حکم دیا کہ انصار و مہاجرین کو پکاریں۔ انہوں نے بلند آواز سے پکارا : اصحاب بدر کہاں ہو ؟ اصحاب شجرہ بیعت رضوان والو کہاں ہو ؟ اس پر لوگ رسول اللہ ﷺ کی طرف پلٹنا شروع ہوئے اور لشکر پھر سے اکٹھا ہوا۔ اس کے بعد ایک بھرپور جنگ لڑنے کے بعد مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی۔ آیت زیر نظر کا اشارہ اس پورے واقعہ کی طرف ہے۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 25 to 28.

مسلمانوں کا غلبہ کافروں کو ان کے کفر کی سزا کا اگلا نتیجہ ہے۔ مگر کافروں کا کفر مسلمانوں کے اسلام کی نسبت سے متحقق ہوتا ہے۔ اگر مسلمان اپنی اسلامیت کھودیں تو کافروں کا کفر کس چیز کے مقابلہ میں ثابت ہوگا اور کس بنیاد پر خدا وہ تفریقي معاملہ کرے گا جو ایک کے ليے انعام بنے اور دوسرے کے ليے سزا۔

رمضان 8ھ؁ميں مسلمانوں نے قریش کو کامیاب طورپر مغلوب کرکے مکہ کو فتح کیا۔ مگر اگلے ہی مہینہ شوال 8ھ ؁ میں ان کو ہوازن وثقیف کے مشرک قبائل کے مقابلہ میں شکست ہوئی، جب کہ فتح مکہ کے وقت مسلمانوں کی تعداد دس ہزار تھی اورہوازن وثقیف سے مقابلہ کے وقت بارہ ہزار۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ قریش سے مقابلہ کے وقت مسلمان صرف اللہ کے بھروسے پر نکلے تھے۔ مگر ہوازن وثقیف کے مقابلہ پر نکلتے ہوئے انھیں یہ ناز ہوگیا کہ اب تو ہم فاتح ِمکہ ہیں ۔ ہمارے ساتھ بارہ ہزار آدمیوں کا لشکر ہے، آج ہم کو کون شکست دے سکتاہے۔ جب وہ خدا کے اعتماد پر تھے تو انھیں کامیابی ہوئی، جب ان کو اپنی ذات پر اعتماد ہوگیا تو انھیں شکست کا سامناکرنا پڑا۔

اپنی ذات پر بھروسہ آدمی کے اندر گھمنڈ کا جذبہ ابھارتا ہے جس کے نتیجہ میں خارجی حقیقتوں سے بے پروائی پیدا ہوتی ہے۔ وہ نظم کی پابندی میں کوتاہ ہوجاتا ہے۔ وہ بے جا خود اعتمادی کی وجہ سے غیرحقیقت پسندانہ اقدام کرنے لگتا ہے جس کا نتیجہ اس عالم اسباب میں لازمی شکست ہے۔ اس کے برعکس خدا پر بھروسہ سب سے بڑی طاقت پر بھروسہ ہے۔ اس سے آدمی کے اندر تواضع کا جذبہ ابھرتا ہے۔ وہ انتہائی حقیقت پسندانہ بن جاتا ہے۔ اور حقیقت پسندی بلا شبہ تمام کامیابیوں کی جڑ ہے۔

ابتداء ً جب یہ حکم آیا کہ حرم میں مشرکوں کا داخلہ بندکردو تو مسلمانوں کو تشویش ہوئی کیوں کہ غیر زرعی ملک ہونے کی وجہ سے عرب کی اقتصادیات کا انحصار تجارت پر تھا اور تجارت کی بنیاد ہمیشہ مشترکہ تعلقات پر ہوتی ہے۔ مسلمانوں نے سوچا کہ جب حرم میں مشرکین کا آنا بندہوگا تو ان کے ساتھ تجارتی رشتے بھی ٹوٹ جائیں گے۔ مگر ان کی نظر اس امکان پر نہیں گئی کہ آج کے مشرک کل کے مسلمان ہوسکتے ہیں ۔ چنانچہ یہی ہوا۔ عربوں کے عمومی طورپر اسلام قبول کرلینے کی وجہ سے تجارتی سرگرمیاں دوبارہ نئی صورت سے بحال ہوگئیں ۔ نیز اس ابتدائی قربانی کا نتیجہ یہ ہوا کہ بالآخر اسلام ایک بین اقوامی دین بن گیا۔ جو معاشی دروازے مقامی سطح پر بند ہوتے نظر آتے تھے وہ عالمی سطح پر کھل گئے۔


Connections

  • Previous: 9_24
  • Next: 9_26
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes