Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 9:23 Prev 9:21


Arabic

خَٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدًاۚ إِنَّ ٱللَّهَ عِندَهُۥٓ أَجۡرٌ عَظِيمٞ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے یقیناً اللہ کے پاس خدمات کا صلہ دینے کو بہت کچھ ہے


English (Sahih International)

[They will be] abiding therein forever. Indeed, Allah has with Him a great reward


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 22 خٰلِدِیْنَ فِیْہَآ اَبَدًاط اِنَّ اللّٰہَ عِنْدَہٗٓ اَجْرٌ عَظِیْمٌ اگلی دو آیات اپنے موضوع اور فلسفۂ دین کے اعتبار سے بہت اہم ہیں۔ جیسا کہ اس سے پہلے بھی ذکر ہوچکا ہے ‘ مکہ پر چڑھائی کے سلسلے میں بعض مسلمانوں میں تذبذب پایا جاتا تھا۔ اس کی ایک بہت ہی اہم وجہ یہ تھی کہ مشرکین مکہ میں سے اکثر کے ساتھ مہاجرین کی بہت قریبی عزیز داریاں تھیں۔ ابھی تک تو کچھ امید تھی کہ شاید وہ لوگ ایمان لے آئیں گے ‘ مگر اب صاف نظر آ رہا تھا کہ مکہ پر چڑھائی کی صورت میں اپنے قریبی عزیزوں کے خلاف لڑنا ہوگا ‘ اپنے بھائیوں ‘ بیٹوں اور باپوں کے گلے کاٹنا ہوں گے۔ انسانی سطح پر یہ کوئی آسان کام نہیں تھا ‘ مگر اللہ تعالیٰ کو ابھی مسلمانوں کا یہ مشکل ترین امتحان لینا بھی مقصود تھا۔ لہٰذا یہ آیات اس ضمن میں اللہ کی مرضی اور دین حق کا اصول بہت واضح اور دو ٹوک الفاظ میں بیان کر رہی ہیں۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

نزولِ قرآن کے وقت عرب میں یہ صورت حال تھی کہ مسلمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد جمع تھے اور مشرکین بیت اللہ کے گرد۔ اس وقت تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عظمتوں کی وہ تاریخ وابستہ نہیں ہوئی تھی جس کو آج ہم جانتے ہیں ۔ لوگوں کو آپ عام انسانوں کی طرح ایک انسان دکھائی دیتے تھے۔ دوسری طرف مسجد حرام ہزاروں برس کی تاریخ کے نتیجہ میں عظمت وتقدس کی علامت بنی ہوئی تھی۔ مشرکین کی نظر میں اپنی تصویر تو یہ تھی کہ وہ ایک مقدس ترین مرکز کے خادم اور آباد کار ہیں ۔ دوسری طرف جب وہ مسلمانوں کو دیکھتے تو اس وقت کے حالات میں ان کو ایسا معلوم ہوتا جیسے کچھ لوگ بس ایک دیوانہ کے پیچھے لگے ہوئے ہیں ۔

مگر مشرکین کا یہ خیال سراسر باطل تھا۔ وہ ظواہر کا تقابل حقائق سے کرنے کی غلطی کررہے تھے۔ مسجد حرام کے زائرین کو پانی پلانا، اس کے اندر روشنی اور صفائی کاانتظام۔ کعبہ پر غلاف چڑھا دینا۔ مسجد کے فرش اور دیوار کی مرمت، یہ سب ظاہری نمائش کی چیزیں ہیں ۔ یہ بھلا ان اعمال کے برابر ہوسکتی ہیں جب کہ آدمی اللہ کو پالیتاہے اورآخرت کی فکر میں جینے لگتا ہے۔ وہ اپنی زندگی اور اپنے اثاثہ کو خدا کے حوالے کردیتاہے۔ وہ دوسری تمام بڑائیوں کا انکار کرکے ایک خدا کو اپنا بڑا بنا لیتاہے۔ سچائی کو پانے والے دراصل وہ لوگ ہیں جنھوں نے اس کو معانی کی سطح پر پایا ہو، نہ کہ ظواہر کی سطح پر۔ جو قربانی کی حد تک سچائی سے تعلق رکھنے والے ہوں ، نہ کہ محض سطحی اورنمائشی کارروائیوں کی حد تک۔

اللہ سے تعلق کی دو قسمیں ہیں ۔ ایک تعلق وہ ہے جو رسمی عقیدہ کی حد تک ہوتا ہے، جس میں آدمی کچھ دکھاوے کے اعمال تو کرتاہے مگر اپنے کو اور اپنے مال کو خدا کی راہ میں نہیں دیتا۔ دوسرا تعلق وہ ہے جب کہ آدمی اپنے ایمان میں اتنا سنجیدہ ہو کہ اس راہ میں اس کو جوکچھ چھوڑناپڑے وہ اس کو چھوڑ دے اور جو چیز دینی پڑے اس کو دینے کے ليے تیار ہوجائے۔ یہی دوسری قسم کے بندے ہیں جو مرنے کے بعد خدا کے یہاں اعلیٰ ترین انعامات سے نوازے جائیں گے۔


Connections

  • Previous: 9_21
  • Next: 9_23
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes