Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَهَاجَرُواْ وَجَٰهَدُواْ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ بِأَمۡوَٰلِهِمۡ وَأَنفُسِهِمۡ أَعۡظَمُ دَرَجَةً عِندَ ٱللَّهِۚ وَأُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡفَآئِزُونَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اللہ کے ہاں تو انہی لوگوں کا درجہ بڑا ہے جو ایمان لائے اور جنہوں نے اس کی راہ میں گھر بار چھوڑے اور جان و مال سے جہاد کیا وہی کامیاب ہیں
English (Sahih International)
The ones who have believed, emigrated and striven in the cause of Allah with their wealth and their lives are greater in rank in the sight of Allah. And it is those who are the attainers [of success]
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
The commentary on this ayah is given with ayah 9:19.
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
انسان کسی حال میں اپنے آپ کو مشقتوں سے آزاد نہیں کرپاتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ انسان کسی بالاتر قوت کے ماتحت ہے۔ اسی طرح انسان کی آنکھیں بتاتی ہیں کہ کوئی برتر آنکھ بھی ہے جو اس کو دیکھ رہی ہے۔ انسان کی قوتِ نطق اشارہ کرتی ہے کہ اس کے اوپر بھی ایک صاحبِ نطق ہے جس نے اس کو نطق کی صلاحیت دی۔ اور اس کو ہدایت کا راستہ دکھایا۔ آدمی اگر حقیقی معنوں میں اپنے آپ کو پہچان لے تو یقیناً وہ خدا کو بھی پہچان لے گا۔
خدا نے انسان کو دو قسم کی بلندیوں پر چڑھنے کا حکم دیا ہے۔ ایک انسان کے ساتھ منصفانہ سلوک اور انسان کی ضرورتوں میں اس کے کام آنا۔ دوسری چیز اللہ پر ایمان و یقین ہے۔ یہ ایمان و یقین جب آدمی کے اندر گہرائی کے ساتھ اترتا ہے تو وہ آدمی کی اپنی ذات تک محدود نہیں رہتا بلکہ متعدی بن جاتا ہے۔ ایسا انسان دوسروں کو بھی اسی حق پر لانے کی کوشش کرنے لگتا ہے جس کو وہ خود اختیار کیے ہوئے ہے۔