Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 9:3 Prev 9:1


Arabic

فَسِيحُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ أَرۡبَعَةَ أَشۡهُرٖ وَٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّكُمۡ غَيۡرُ مُعۡجِزِي ٱللَّهِ وَأَنَّ ٱللَّهَ مُخۡزِي ٱلۡكَٰفِرِينَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

پس تم لوگ ملک میں چار مہینے اور چل پھر لو اور جان رکھو کہ تم اللہ کو عاجز کرنے والے نہیں ہو، اور یہ کہ اللہ منکرین حق کو رسوا کرنے والا ہے


English (Sahih International)

So travel freely, [O disbelievers], throughout the land [during] four months but know that you cannot cause failure to Allah and that Allah will disgrace the disbelievers


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 2 فَسِیْحُوْا فِی الْاَرْضِ اَرْبَعَۃَ اَشْہُرٍ “یعنی اس جزیرہ نمائے عرب میں تمہیں رہنے اور گھومنے پھرنے کے لیے صرف چار مہینے کی مہلت دی جارہی ہے۔وَّاعْلَمُوْٓا اَنَّکُمْ غَیْرُ مُعْجِزِی اللّٰہِلا وَاَنَّ اللّٰہَ مُخْزِی الْکٰفِرِیْنَ اب ان مشرکین کے لیے اللہ کے عذاب کی آخری قسط آکر رہے گی۔ یہ قطعی اعلان تو ایسے معاہدوں کے ضمن میں تھا جن میں کوئی میعاد معین نہیں تھی ‘ جیسے عام دوستی کے معاہدے ‘ جنگ نہ کرنے کے معاہدے وغیرہ۔ ایسے تمام معاہدوں کو چارہ ماہ کی پیشگی وارننگ کے ساتھ ختم کردیا گیا۔ یہ ایک معقول طریقہ تھا جو سورة الانفال کی آیت 58 میں بیان کردہ اصول فَانْبِذْ اِلَیْہِمْ عَلٰی سَوَآءٍ ط کے مطابق اختیار کیا گیا۔ یعنی معاہدے کو علی الاعلان دوسرے فریق کی طرف پھینک دیا گیا ‘ اور پھر فوراً اقدام بھی نہیں کیا گیا ‘ بلکہ چار ماہ کی مہلت بھی دے دی گئی۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

The commentary on this ayah is given with ayah 9:1.


Connections

  • Previous: 9_1
  • Next: 9_3
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes