Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
مَا كَانَ لِلۡمُشۡرِكِينَ أَن يَعۡمُرُواْ مَسَٰجِدَ ٱللَّهِ شَٰهِدِينَ عَلَىٰٓ أَنفُسِهِم بِٱلۡكُفۡرِۚ أُوْلَـٰٓئِكَ حَبِطَتۡ أَعۡمَٰلُهُمۡ وَفِي ٱلنَّارِ هُمۡ خَٰلِدُونَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
مشرکین کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ اللہ کی مسجدوں کے مجاور و خادم بنیں درآں حالیکہ اپنے اوپر وہ خود کفر کی شہادت دے رہے ہیں ان کے تو سارے اعمال ضائع ہو گئے اور جہنم میں انہیں ہمیشہ رہنا ہے
English (Sahih International)
It is not for the polytheists to maintain the mosques of Allah [while] witnessing against themselves with disbelief. [For] those, their deeds have become worthless, and in the Fire they will abide eternally
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
This commentary covers ayaat 17 and 18.
آیت 17 مَا کَانَ لِلْمُشْرِکِیْنَ اَنْ یَّعْمُرُوْا مَسٰجِدَ اللّٰہِ شٰہِدِیْنَ عَلٰٓی اَنْفُسِہِمْ بالْکُفْرِ ط یہ مساجد تو اللہ کے گھر ہیں ‘ یہ کعبہ اللہ کا گھر اور توحید کا مرکز ہے ‘ جبکہ قریش علی اعلان کفر پر ڈٹے ہوئے ہیں اور اللہ کے گھر کے متولی بھی بنے بیٹھے ہیں۔ ایسا کیونکر ممکن ہے ؟ اللہ کے ان دشمنوں کا اس کی مساجد کے اوپر کوئی حق کیسے ہوسکتا ہے ؟ اُولٰٓءِکَ حَبِطَتْ اَعْمَالُہُمْج وَفِی النَّارِ ہُمْ خٰلِدُوْنَ بیت اللہ کی دیکھ بھال اور حاجیوں کی خدمت جیسے وہ اعمال جن پر مشرکین مکہ پھولے نہیں سماتے ‘ ایمان کے بغیر اللہ کے نزدیک ان کے ان اعمال کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ ان کے کفر کے سبب اللہ نے ان کے تمام اعمال ضائع کردیے ہیں۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 17 to 19.
اس سوره کی ابتدائی پانچ آیتیں وہ ہیں جو پیغمبر اسلام پر سب سے پہلے نازل ہوئیں ۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے معمولی مادی اجزاء سے پیدا کیا۔ پھر اس کو یہ نادر صلاحیت دی کہ وہ پڑھے اور الفاظ کے ذریعہ معانی کا ادراک کرسکے۔ پھر انسان کو یہ مزید صلاحیت دی گئی کہ وہ قلم کو استعمال کرے اور اس طرح اپنے علم کو مدون اور محفوظ کرسکے۔ قراءت کی صلاحیت اگر آدمی کو خود پڑھنے کے قابل بناتی ہے تو قلم اس کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ اپنے علم کو وسیع پیمانہ پر دوسروں تک پہنچا سکے۔جو لوگ حق کے مقابلہ میں سرکشی کریں اور حق کا راستہ اختیار کرنے والوں کی راہ میں رکاوٹیں ڈالیں ، ان کا انجام بہت برا ہے۔ ایسے حالات میں حق کے داعی کا اصل سہارا یہ ہے کہ وہ اللہ کی عبادت کرے۔ وہ لوگوں سے محروم ہو کر خدا سے پائے، وہ لوگوں سے دور ہو کر لوگوں کے خدا سے قریب ہوجائے۔