Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَإِن نَّكَثُوٓاْ أَيۡمَٰنَهُم مِّنۢ بَعۡدِ عَهۡدِهِمۡ وَطَعَنُواْ فِي دِينِكُمۡ فَقَٰتِلُوٓاْ أَئِمَّةَ ٱلۡكُفۡرِ إِنَّهُمۡ لَآ أَيۡمَٰنَ لَهُمۡ لَعَلَّهُمۡ يَنتَهُونَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اور اگر عہد کرنے کے بعد یہ پھر اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں اور تمہارے دین پر حملے کرنے شروع کر دیں تو کفر کے علمبرداروں سے جنگ کرو کیونکہ ان کی قسموں کا اعتبار نہیں شاید کہ (پھر تلوار ہی کے زور سے) وہ باز آئیں گے
English (Sahih International)
And if they break their oaths after their treaty and defame your religion, then fight the leaders of disbelief, for indeed, there are no oaths [sacred] to them; [fight them that] they might cease
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 12 وَاِنْ نَّکَثُوْٓا اَیْمَانَہُمْ مِّنْم بَعْدِ عَہْدِہِمْ وَطَعَنُوْا فِیْ دِیْنِکُمْ فَقَاتِلُوْٓا اَءِمَّۃَ الْکُفْرِلا اِنَّہُمْ لَآ اَیْمَانَ لَہُمْ یہ بہت اہم اور قابل توجہ نکتہ ہے۔ جزیرہ نمائے عرب کے اندر کافر اور مشرک تو بہت تھے مگر یہاں خصوصی طور پر کفر اور شرک کے پیشواؤں سے جنگ کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے۔ یہ ائمّۃ الکفر کفر کے امام قریش تھے۔ وہ کعبہ کے متولی اور تمام قبائل کے بتوں کے مجاور تھے۔ دوسری طرف سیاسی ‘ معاشرتی اور معاشی لحاظ سے مکہ کو اُمّ القریٰ کی حیثیت حاصل تھی اور وہ ان کے زیر تسلط تھا۔ اس وقت اگرچہ جزیرہ نمائے عرب میں نہ کوئی مرکزی حکومت تھی اور نہ ہی کوئی باقاعدہ مرکزی دارالحکومت تھا ‘ مگر پھر بھی اس پورے خطے کا مرکزی شہر اور معنوی صدر مقام مکہ ہی تھا ‘ اور اس مرکزی شہر اور اُمّ القریٰ میں واقع اللہ کے گھر کو قریش نے شرک کا اڈا بنایا ہوا تھا۔ اس لیے جب تک ان کو شکست دے کر مکہ کو کفر اور شرک سے پاک نہ کردیا جاتا ‘ جزیرہ نمائے عرب کے اندر دین کے غلبے کا تصور نہیں کیا جاسکتا تھا۔ اس لیے یہاں فَقَاتِلُوْٓا اَءِمَّۃَ الْکُفْرِ کا واضح حکم دیا گیا ہے ‘ کہ جب تک کفر کے ان سرغنوں کا سر نہیں کچلاجائے گا اور شرک کے اس مرکزی اڈے کو ختم نہیں کیا جائے گا اس وقت تک سرزمین عرب میں دین کے کلی غلبے کی راہ ہموار نہیں ہوگی۔ لَعَلَّہُمْ یَنْتَہُوْنَ یعنی ان پر سختی کی جائے گی تو شاید باز آجائیں گے ‘ نرمی سے یہ ماننے والے نہیں ہیں۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 12 to 15.
ائمہ کفر سے مراد قریش ہیں جو اپنے قائدانہ مقام کی وجہ سے عرب میں اسلام کے خلاف تحریک کی امامت کررہے تھے ۔ قریش کے اس کردار سے معلوم ہوتاہے کہ اسلام کی تحریک جب اٹھتی ہے تو اس کا پہلا مخالف کون گروہ بنتاہے۔ یہ وہ گروہ ہے جس کو بے آمیز حق کے پیغام میں اپنی بڑائی پر زد پڑتی ہوئی نظر آتی ہے۔ یہی وہ سربرآوردہ طبقہ ہے جس کے پاس وه ذهن هوتا هے كه وه اسلامي دعوت ميں شوشے نكال كر لوگوں كو اس كي طرف سے مشتبه كرے۔ اسي كے پاس وہ وسائل ہوتے ہیں کہ وہ اسلام کے داعیوں کی حوصلہ شکنی کے ليے ان کو طرح طرح کی مشکلات میں ڈالے۔ اسی کے پاس وہ زور ہوتاہے کہ وہ حق پرستوں کو ان کے گھروں سے نکالنے کی تدبیر کرے۔ حتی کہ اسی کو یہ مواقع حاصل ہوتے ہیں کہ اسلام کے ماننے والوں کے خلاف باقاعدہ جنگ کی آگ بھڑکاسکے۔
’’ان کے عہد کچھ نہیں ‘‘ بہت معنیٰ خیز فقرہ ہے۔ جو لوگ دشمنی اور ضد کی بنیاد پر کھڑے ہوئے ہوں ان کے وعدے اور معاہدے بالکل غیر یقینی ہوتے ہیں ۔ ان کی نفسیات میں اپنے حریف کے خلاف مستقل اشتعال برپا رہتا ہے۔ ان کے اندر ٹھہراؤ نہیں ہوتا۔ وہ اگر معاہدہ بھی کرلیں تو اپنے مزاج کے اعتبار سے اس کو دیر تک باقی رکھنے پر قادر نہیں ہوتے۔ زیادہ دیر نہیں گزرتی کہ اپنے منفی جذبات سے مغلوب ہو کر وہ معاہدہ کو توڑ دیتے ہیں اور اس طرح اہلِ حق کو یہ موقع دیتے ہیں کہ اپنے اوپر پہل کا الزام ليے بغیر وہ ان کے خلاف مدافعانہ کارروائی کریں اور خدا کی مدد سے ان کا خاتمہ کردیں ۔
تمام حکمت اور دانائی کا سرا اللہ کا ڈر ہے۔ اللہ کا ڈر آدمی کے اندر اعتراف کا مادہ پیدا کرتا ہے۔ وہ آدمی کے اندر وہ شعور جگاتا ہے کہ وہ حقیقتوں کو ان کے اصلی روپ میں دیکھ سکے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ سے ڈرنے والے کے ليے خدائی منصوبہ کو سمجھنے میں دیر نہیں لگتی۔ وہ خدا کی منشا کو جان کر پورے اعتماد کے ساتھ اپنے آپ کو اس میں لگا دیتاہے۔ وہ اس صحیح ترین راستہ پر چل پڑتا ہے جس کی آخری منزل صرف کامیابی ہے۔ اللہ کا ڈر آدمی کی آنکھوں کو اشک آلود کردیتاہے۔ مگر اللہ کے ليے بھیگی ہوئی آنکھ ہی وہ آنکھ ہے جس کے ليے یہ مقدر ہے کہ اس کو ٹھنڈک حاصل ہو، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔