Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 9:118 Prev 9:116


Arabic

لَّقَد تَّابَ ٱللَّهُ عَلَى ٱلنَّبِيِّ وَٱلۡمُهَٰجِرِينَ وَٱلۡأَنصَارِ ٱلَّذِينَ ٱتَّبَعُوهُ فِي سَاعَةِ ٱلۡعُسۡرَةِ مِنۢ بَعۡدِ مَا كَادَ يَزِيغُ قُلُوبُ فَرِيقٖ مِّنۡهُمۡ ثُمَّ تَابَ عَلَيۡهِمۡۚ إِنَّهُۥ بِهِمۡ رَءُوفٞ رَّحِيمٞ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

اللہ نے معاف کر دیا نبیؐ کو اور ان مہاجرین و انصار کو جنہوں نے بڑی تنگی کے وقت میں نبیؐ کا ساتھ دیا اگر چہ ان میں سے کچھ لوگوں کے دل کجی کی طرف مائل ہو چکے تھے (مگر جب انہوں نے اس کجی کا اتباع نہ کیا بلکہ نبیؐ کا ساتھ ہی دیا تو) اللہ نے انہیں معاف کر دیا، بے شک اُس کا معاملہ اِن لوگوں کے ساتھ شفقت و مہربانی کا ہے


English (Sahih International)

Allah has already forgiven the Prophet and the Muhajireen and the Ansar who followed him in the hour of difficulty after the hearts of a party of them had almost inclined [to doubt], and then He forgave them. Indeed, He was to them Kind and Merciful


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 117 لَقَدْ تَّابَ اللہ عَلَی النَّبِیِّ وَالْمُہٰجِرِیْنَ وَالْاَنْصَارِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُ فِیْ سَاعَۃِ الْعُسْرَۃِ یہ تبوک کی مہم کی طرف اشارہ ہے۔ تاریخ میں یہ مہم جیش العسرۃ کے نام سے مشہور ہے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب خشک سالی کے باعث مدینہ میں قحط کا سماں تھا۔ ان حالات میں اتنے بڑے لشکر کا اتنی لمبی مسافت پر وقت کی سپر پاور سے نبرد آزما ہونے کے لیے جانا واقعی بہت بڑی آزمائش تھی۔ جو لوگ اس آزمائش میں ثابت قدم رہے ‘ یہ ان کے لیے رحمت و شفقت کا ایک اعلان عام ہے۔مِنْم بَعْدِ مَا کَادَ یَزِیْغُ قُلُوْبُ فَرِیْقٍ مِّنْہُمْ بر بنائے طبع بشری کہیں نہ کہیں ‘ کبھی نہ کبھی انسان میں کچھ کمزوری آ ہی جاتی ہے۔ جیسے غزوۂ احد میں بھی دو مسلمان قبائل بنو حارثہ اور بنو سلمہ کے لوگوں کے دلوں میں عارضی طور پر تھوڑی سے کمزوری آگئی تھی۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 117 and 118.

غزوۂ تبوک کے موقع پر ایک گروہ وہ نکلا جس نے اپنا بہترین اثاثہ اسلام کے حوالے کردیا۔ ان کی فصل کٹنے کے ليے تیار تھی مگر وہ اس کو چھوڑ کر ایک ایسے سفر پر روانہ ہوگئے جس میں سخت گرمی کے تین سو میل طے کرکے وقت کی سب سے بڑی طاقت ورسلطنت کا مقابلہ کرنا تھا۔ سامان کی کمی کا یہ حال تھا کہ ایک ایک اونٹ پر کئی کئی آدمیوں کی باری لگی ہوئی تھی۔کھانے کے ليے بعض اوقات صرف ایک کھجور ایک آدمی کے حصہ میں آتی تھی۔ تاہم یہ انتہائی سخت مرحلہ صرف ارادوں کے امتحان کے ليے سامنے لایا گیا تھا۔ جب ارادہ کرنے والوں نے ارادہ کا ثبوت دے دیا تو خدا نے دشمن کے اوپر رعب طاری کردیا۔ وہ مقابلہ کے میدان سے ہٹ گئے اور مسلمان خون بہائے بغیر کامیاب وکامراں ہو کر واپس آگئے۔(صحیح مسلم، حدیث نمبر 2769)

دوسرا طبقہ معترفین (التوبہ،

9:102

) کا تھا۔ یہ لوگ اپنے دنیوی مشاغل کی وجہ سے سفر پر روانہ نہ ہوسکے۔ تاہم فوراً ہی بعد ان کو محسوس ہوگیا کہ انھوں نے غلطی کی ہے۔ ان کے اندر اعتراف اور شرمندگی کی آگ بھڑک اٹھی۔ ان کے آنسوؤں کی کثرت نے ان کے عمل کی کمی کی تلافی کردی۔ خدا نے ان کو بھی اپنی رحمتوں کے سایہ میں جگہ دے دی۔ کیوں کہ انھوں نے عاجزانہ طورپر اپنی غلطی کو مان لیا۔

تیسرا گروہ مخلّفین(التوبہ،

9:118

) کا تھا۔ یہ تین نوجوان کعب بن مالک، مرارۃ بن رُبیع، ہلال بن اُمیۃ تھے۔ وہ اگرچہ سفر پر نہ نکلنے کو اپنی کوتاہی سمجھتے تھے مگر ان کے اندر توبہ و انابت کا اتنا شدید احساس پہلے مرحلہ میں نہیں ابھرا تھا جو مطلوبہ معیار کے مطابق ہو۔ چنانچہ ان کے ساتھ معاشرتی بائیکاٹ کا معاملہ کیاگیا۔ یہ لوگ اس مقاطعہ کے باوجود مطمئن رہ سکتے تھے۔ وہ اپنے گھر اور اپنے باغوں میں مشغول ہوجاتے۔ وہ برہمی اور ناوفاداری کے راستوں پر چلنا شروع کردیتے۔ وہ ناراض عناصر کے ساتھ مل کر اپنی علیحدہ جمعیت بنالیتے۔ وہ عام مسلمانوں سے الگ اپنا ایک جزیرہ بنا کر اس کے اندر اپنی خوشیوں کی دنیا بسا سکتے تھے۔ مگر انھوں نے ایسا نہیں کیا۔ خدا و رسول سے دوری کے احساس نے ان کو اس قدر پریشان کردیا کہ نہ باہر ان کے ليے سکون کی کوئی جگہ نظر آئی اور نہ اپنے دل کے اندر ان کے ليے سکون کا کوئی گوشہ باقی رہا۔ با الفاظ دیگر ان کی پریشانی اختیارانہ تھی، نہ کہ مجبورانہ۔ ان کی اس روش کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کا دل پگھل اٹھا۔ 50 دن میں وہ توبہ وانابت کے مطلوبہ معیار پر پہنچ گئے۔ اس کے بعد انھیں بھی معاف کردیاگیا۔


Connections

  • Previous: 9_116
  • Next: 9_118
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes