Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 9:108 Prev 9:106


Arabic

وَٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُواْ مَسۡجِدٗا ضِرَارٗا وَكُفۡرٗا وَتَفۡرِيقَۢا بَيۡنَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ وَإِرۡصَادٗا لِّمَنۡ حَارَبَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ مِن قَبۡلُۚ وَلَيَحۡلِفُنَّ إِنۡ أَرَدۡنَآ إِلَّا ٱلۡحُسۡنَىٰۖ وَٱللَّهُ يَشۡهَدُ إِنَّهُمۡ لَكَٰذِبُونَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

کچھ اور لوگ ہیں جنہوں نے ایک مسجد بنائی اِس غرض کے لیے کہ (دعوت حق کو) نقصان پہنچائیں، اور (خدا کی بندگی کرنے کے بجائے) کفر کریں، اور اہل ایمان میں پھوٹ ڈالیں، اور (اس بظاہر عبادت گاہ کو) اُس شخص کے لیے کمین گاہ بنائیں جو اس سے پہلے خدا اور رسولؐ کے خلاف بر سر پیکار ہو چکا ہے وہ ضرور قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ ہمارا ارادہ تو بھلائی کے سوا کسی دوسری چیز کا نہ تھا مگر اللہ گواہ ہے کہ وہ قطعی جھوٹے ہیں


English (Sahih International)

And [there are] those [hypocrites] who took for themselves a mosque for causing harm and disbelief and division among the believers and as a station for whoever had warred against Allah and His Messenger before. And they will surely swear, “We intended only the best.” And Allah testifies that indeed they are liars


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 107 وَالَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَّکُفْرًا وَّتَفْرِیْقًام بَیْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَاِرْصَادًا لِّمَنْ حَارَبَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ مِنْ قَبْلُ ط ضِرَارًا باب مفاعلہ ہے ‘ یعنی انہوں نے مسجد بنائی ہے ضدم ضدا ‘ مقابلے میں اور دعوت حق کو نقصان پہنچانے کے لیے۔ یہ مسجد منافقین نے مسجد قبا کے قریبی علاقے میں بنائی تھی۔ اس کی تعمیر کے پیچھے ابو عامر راہب کا ہا تھ تھا۔ اس شخص کا تعلق قبیلہ خزرج سے تھا۔ وہ زمانۂ جاہلیت میں عیسائیت قبول کر کے راہب بن گیا تھا اور عرب میں اہل کتاب کے بہت بڑے عالم کے طور پر جانا جاتا تھا۔ جیسا کہ ورقہ بن نوفل ‘ جو قرشی تھے اور انہوں نے بھی بت پرستی چھوڑ کر عیسائیت اختیار کرلی تھی ‘ اور اپنے زمانے کے اتنے بڑے عالم تھے کہ تورات عبرانی زبان میں لکھا کرتے تھے۔ وہ بہت نیک اور سلیم الفطرت انسان تھے۔ جب حضرت خدیجہ رض حضور ﷺ کو لے کر ان کے پاس گئیں تو انہوں نے آپ ﷺ کی تصدیق کی اور بتایا کہ آپ ﷺ کے پاس وہی ناموس آیا ہے جو حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آتا تھا۔ انہوں نے تو یہاں تک کہا تھا کہ کاش میں اس وقت تک زندہ رہوں جب آپ کی قوم آپ کو یہاں سے نکال دے گی۔ حضور ﷺ نے جب حیرت سے پوچھا کہ کیا یہ لوگ مجھے یہاں سے نکال دیں گے ؟ تو انہوں نے بتایا کہ ہاں ! معاملہ ایسا ہی ہے ‘ آپ کی دعوت کے نتیجے میں آپ کی قوم آپ کی دشمن بن جائے گی۔مگر ابو عامر راہب کا رویہ اس کے برعکس تھا۔ وہ رسول اللہ ﷺ کا شدید ترین دشمن بن گیا۔ قریش مکہ کی بدر میں شکست کے بعد یہ شخص مکہ میں جا کر آباد ہوگیا اور اہل مکہ کو حضور ﷺ اور مسلمانوں کے خلاف اکساتا رہا۔ چناچہ غزوۂ احد کے پیچھے بھی اسی شخص کی سازشیں کار فرما تھیں ‘ بلکہ میدان احد میں جب دونوں لشکر آمنے سامنے ہوئے تو اس نے لشکر سے باہر نکل کر انصار مدینہ کو خطاب کر کے انہیں ورغلانے کی کوشش بھی کی تھی۔ اس کے بعد بھی تمام جنگوں میں یہ مسلمانوں کے خلاف برسرپیکار رہا ‘ مگر حنین کی جنگ کے بعد جب اسے محسوس ہوا کہ اب جزیرہ نمائے عرب میں اس کے لیے کوئی جگہ نہیں رہی تو وہ مایوس ہو کر شام چلا گیا اور وہاں جا کر بھی مسلمانوں کے خلاف سازشوں میں مصروف رہا۔ اس کے لیے اس نے منافقین مدینہ کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھا اور اسی کے کہنے پر منافقین نے مسجد ضرار تعمیر کی جو نام کو تو مسجد تھی مگر حقیقت میں سازشی عناصر کی کمین گاہ اور فتنے کا ایک مرکز تھی۔ وَلَیَحْلِفُنَّ اِنْ اَرَدْنَآ اِلاَّ الْحُسْنٰیط واللّٰہُ یَشْہَدُ اِنَّہُمْ لَکٰذِبُوْنَ اب جواب طلبی پر یہ منافقین قسمیں کھا کھا کر اپنی صفائی پیش کرنے کی کوشش کریں گے کہ ہماری کوئی بری نیت نہیں تھی ‘ ہمارا ارادہ تو نیکی اور بھلائی ہی کا تھا ‘ اصل میں دوسری مسجد ذرا دور پڑتی تھی جس کی وجہ سے ہم تمام نمازیں جماعت کے ساتھ ادا نہیں کرسکتے تھے ‘ اس لیے ہم نے سوچا کہ اپنے محلے میں ایک مسجد بنا لیں تاکہ تمام نمازیں آسانی سے باجماعت ادا کرسکیں ‘ وغیرہ وغیرہ۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 107 to 110.

زندگی کی تعمیر کی دو بنیادیں ہیں ۔ ایک تقویٰ، دوسرے ظلم۔ پہلی صورت یہ ہے کہ خدا کے ڈر کی بنیاد پر زندگی کی عمارت اٹھائی جائے۔ آدمی کی تمام سرگرمیاں جس فکر کےما تحت چل رہی ہوں وہ فکر یہ ہو کہ اس کو اپنے تمام قول وفعل کا حساب ایک ایسی ہستی کو دینا ہے جو کھلے اور چھپے سے باخبر ہے ا ور ہر ایک کو اس کے حقیقی کارناموں کے مطابق جزا یا سزا دینے والا ہے۔ ایسا شخص گویا مضبوط چٹان پر اپنی عمارت کھڑی کررہا ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ آدمی اس قسم کے اندیشہ سے خالی ہو۔ وہ دنیا میں بالکل بے قید زندگی گزارے۔ وہ کسی پابندی کو قبول كيے بغیر جو چاہے بولے اور جو چاہے کرے۔ ایسے شخص کی زندگی کی مثال اس عمارت کی سی ہے جو ایسی کھائی کے کنارے اٹھا دی گئی ہو جو بس گرنے ہی والی ہو اور اچانک ایک روز اس کا مکان اپنے مکینوں سمیت گہرے کھڈ میں گر پڑے۔

جو لوگ ظلم کی بنیاد پر اپنی زندگی کی عمارت اٹھاتے ہیں ان کے جرائم میں سب سے زیادہ سخت جرم وہ ہے جس کی مثال مدینہ میں مسجد ضرار کی صورت میں سامنے آئی۔ اس وقت مدینہ میں دو مسجدیں تھیں ۔ ایک آبادی کے اندرمسجد نبوی۔ دوسری مضافات میں مسجد قبا۔ منافق مسلمانوں نے اس کے توڑ پر ایک تیسری مسجد تعمیر کرلی۔ اس قسم کی کارروائی بظاہراگر چہ دین کے نام پر ہوتی ہے مگر حقیقۃً اس کا مقصد ہوتا ہے اپنی قیادت اور پیشوائی کو قائم رکھنے کی خاطر دعوتِ حق کا مخالف بن جانا۔ جو لوگ اپنی خود پرستی کی وجہ سے دعوت حق کو قبول نہیں کرپاتے وہ اس کے خلاف محاذ بنا تے ہیں ، اس کے خلاف تخریبی کارروائیاں کرتے ہیں ۔ ان کی منفی سرگرمیاں مسلمانوں کو دو گروہوں میں بانٹ دیتی ہیں ۔ ایسے لوگ اپنے تخریبی عمل کو دین کے نام پر کرتے ہیں ۔ حتی کہ وہ مسلّمہ دینی شخصیتوں کو اپنے اسٹیج پر لانے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ لوگوں کی نظر میں انھیں اعتماد حاصل ہوجائے۔

یہ لوگ اپنی اندھی دشمنی میں بھول جاتے ہیں کہ حق کی مخالفت دراصل خدا کی مخالفت ہے جو خدا کی دنیا میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی۔ ایسے لوگوں کے ليے جو چیز مقدر ہے وہ صرف یہ کہ وہ حسرت وافسوس کے ساتھ مریں اور اللہ کی رحمتوں سے ہمیشہ کے ليے محروم ہوجائیں ۔


Connections

  • Previous: 9_106
  • Next: 9_108
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes