Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَهَاجَرُواْ وَجَٰهَدُواْ بِأَمۡوَٰلِهِمۡ وَأَنفُسِهِمۡ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ وَٱلَّذِينَ ءَاوَواْ وَّنَصَرُوٓاْ أُوْلَـٰٓئِكَ بَعۡضُهُمۡ أَوۡلِيَآءُ بَعۡضٖۚ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَلَمۡ يُهَاجِرُواْ مَا لَكُم مِّن وَلَٰيَتِهِم مِّن شَيۡءٍ حَتَّىٰ يُهَاجِرُواْۚ وَإِنِ ٱسۡتَنصَرُوكُمۡ فِي ٱلدِّينِ فَعَلَيۡكُمُ ٱلنَّصۡرُ إِلَّا عَلَىٰ قَوۡمِۭ بَيۡنَكُمۡ وَبَيۡنَهُم مِّيثَٰقٞۗ وَٱللَّهُ بِمَا تَعۡمَلُونَ بَصِيرٞ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
جن لوگوں نے ایمان قبول کیا اور ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں اپنی جانیں لڑائیں اور اپنے مال کھپائے، اور جن لوگوں نے ہجرت کرنے والوں کو جگہ دی اور ان کی مدد کی، وہی دراصل ایک دوسرے کے ولی ہیں رہے وہ لوگ جو ایمان تو لے آئے مگر ہجرت کر کے (دارالاسلام میں) آ نہیں گئے تو ان سے تمہارا ولایت کا کوئی تعلق نہیں ہے جب تک کہ وہ ہجرت کر کے نہ آ جائیں ہاں اگر وہ دین کے معاملہ میں تم سے مدد مانگیں تو ان کی مدد کرنا تم پر فرض ہے، لیکن کسی ایسی قوم کے خلاف نہیں جس سے تمہارا معاہدہ ہو جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے دیکھتا ہے
English (Sahih International)
Indeed, those who have believed and emigrated and fought with their wealth and lives in the cause of Allah and those who gave shelter and aided - they are allies of one another. But those who believed and did not emigrate - for you there is no guardianship of them until they emigrate. And if they seek help of you for the religion, then you must help, except against a people between yourselves and whom is a treaty. And Allah is Seeing of what you do
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 72 اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَہَاجَرُوْا وَجٰہَدُوْا بِاَمْوَالِہِمْ وَاَنْفُسِہِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَالَّذِیْنَ اٰوَوْا وَّنَصَرُوْٓا اُولٰٓءِکَ بَعْضُہُم اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ ط اس وقت تک مسلمان معاشرہ دو علیحدہ علیحدہ گروہوں میں منقسم تھا ‘ ایک گروہ مہاجرین کا تھا اور دوسرا انصار کا۔ اگرچہ مہاجرین اور انصار کو بھائی بھائی بنایا جا چکا تھا ‘ لیکن اس طرح کے تعلق سے پورا قبائلی نظام ایک دم تو تبدیل نہیں ہوجاتا۔ اس وقت تک صورت حال یہ تھی کہ غزوۂ بدر سے پہلے جو آٹھ مہمات حضور ﷺ نے مختلف علاقوں میں بھیجیں ان میں آپ ﷺ نے کسی انصاری صحابی رض کو شریک نہیں فرمایا۔ انصار پہلی دفعہ غزوۂ بدر میں شریک ہوئے۔ اس تاریخی حقیقت کو مد نظر رکھاجائے تو یہ نکتہ واضح ہوجاتا ہے کہ آیت کے پہلے حصے میں مہاجرین کا ذکر ہجرت کے علاوہ جہاد کی تحضیص کے ساتھ کیوں ہوا ہے ؟ یعنی انصار مدینہ تو جہاد میں بعد میں شامل ہوئے ‘ ہجرت کے ڈیڑھ سال بعد تک تو جہادی مہمات میں حصہ صرف مہاجرین ہی لیتے رہے تھے۔ یہاں انصار کی شان یہ بتائی گئی : وَالَّذِیْنَ اٰوَوْا وَّنَصَرُوْا کہ انہوں نے اپنے دلوں اور اپنے گھروں میں مہاجرین کے لیے جگہ پیدا کی اور ہر طرح سے ان کی مدد کی۔ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ یُہَاجِرُوْا مَا لَکُمْ مِّنْ وَّلاَیَتِہِمْ مِّنْ شَیْءٍ حَتّٰی یُہَاجِرُوْا ج سورۃ النساء میں جو اس سورت کے بعد نازل ہوئی ہے ہجرت نہ کرنے والوں کے بارے میں واضح حکم آیات 89 ‘ 90 موجود ہے۔ وہاں انہیں منافقین اور کفار جیسے سلوک کا مستحق قرار دیا گیا ہے کہ انہیں پکڑو اور قتل کرو اِلَّا یہ کہ ان کا تعلق کسی ایسے قبیلے سے ہو جس کے ساتھ تمہارا معاہدہ ہو۔ آیت زیرنظر میں بھی واضح طور پر بتادیا گیا ہے کہ جن لوگوں نے ہجرت نہیں کی ان کے ساتھ تمہارا کوئی رشتۂ ولایت ورفاقت نہیں ہے۔ یعنی ایمان حقیقی تو دل کا معاملہ ہے جس کی کیفیت صرف اللہ جانتا ہے ‘ لیکن قانونی تقاضوں کے لیے ایمان کا ظاہری معیار ہجرت قرار پایا۔ جن لوگوں نے ایمان لانے کے بعد مکہ سے مدینہ ہجرت کی ‘ انہوں نے اپنے ایمان کا ظاہری ثبوت فراہم کردیا ‘ اور جن لوگوں نے ہجرت نہیں کی مگر ایمان کے دعویدار رہے ‘ انہیں قانونی طور پر مسلمان تسلیم نہیں کیا گیا۔ مثلاً بدر کے قیدیوں میں سے کوئی شخص اگر یہ دعویٰ کرتا ہے کہ میں تو ایمان لا چکا تھا ‘ جنگ میں تو مجبوراً شامل ہوا تھا ‘ تو اس کا جواب اس اصول کے مطابق یہی ہے کہ چونکہ تم نے ہجرت نہیں کی ‘ لہٰذا تمہارا شمار ان ہی لوگوں کے ساتھ ہوگا جن کے ساتھ مل کر تم جنگ کرنے آئے تھے۔ اس لحاظ سے اس آیت کا روئے سخن بھی اسیران بدر کی طرف ہے۔ان میں سے اگر کوئی شخص اسلام کا دعویدار ہے تو وہ قانون کے مطابق فدیہ دے کر آزاد ہو ‘ واپس مکہ جائے ‘ پھر وہاں سے باقاعدہ ہجرت کر کے مدینہ آجائے تو اسے صاحب ایمان تسلیم کیا جائے گا۔ پھر وہ تمہارا حمایتی ہے اور تم اس کے حمایتی ہو گے۔وَاِنِ اسْتَنْصَرُوْکُمْ فِی الدِّیْنِ فَعَلَیْکُمُ النَّصْرُ یعنی وہ لوگ جو ایمان لائے لیکن مکہ میں ہی رہے یا اپنے اپنے قبیلے میں رہے اور ان لوگوں نے ہجرت نہیں کی ‘ اگر وہ دین کے معاملے میں تم لوگوں سے مدد مانگیں تو تم ان کی مدد کرو۔اِلاَّ عَلٰی قَوْمٍم بَیْنَکُمْ وَبَیْنَہُمْ مِّیْثَاقٌ ط۔اگرچہ دارالاسلام والوں پر ان مسلمانوں کی حمایت و مدافعت کی ذمہ داری نہیں ہے جنہوں نے دارالکفر سے ہجرت نہیں کی ہے ‘ تاہم وہ دینی اخوت کے رشتہ سے خارج نہیں ہیں۔ چناچہ اگر وہ اپنے مسلمان بھائیوں سے اس دینی تعلق کی بنا پر مدد کے طالب ہوں تو ان کی مدد کرنا ضروری ہے ‘ بشرطیکہ یہ مدد کسی ایسے قبیلے کے مقابلے میں نہ مانگی جا رہی ہو جس سے مسلمانوں کا معاہدہ ہوچکا ہے۔ معاہدہ کا احترام بہرحال مقدم ہے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 72 and 73.
عام طورپر جب ایک آدمی دوسرے کی مدد کرتاہے تو اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ آدمی اس کے اپنے خاندان کا ہے، اس سے گروہی اور جماعتی تعلق ہے۔ مگر ہجرت کے بعد مدینہ میں جو اسلامی معاشرہ قائم ہوا وہ ایسا معاشرہ تھا جس میں گھر والوں نے اپنے گھر ایسے لوگوں کو ديے جن سے تعلق کی بنیاد صرف دین تھی۔ جو لوگ اپنے وطن کو چھوڑ کر مدینہ آئے وہ بھی اللہ کے ليے اور آخرت طلبی کے ليے آئے۔ اور جنھوں نے ان اجنبی لوگوں کو اپنے مال اور اپنی جائداد میں شریک کیا وہ بھی صرف اس ليے تاکہ ان کا خدا ان سے خوش ہو اور آخرت میں انھیں جنتوں میں داخل کرے۔
یہ ایسا سماج تھا جس میںاہم چیز خاندان اور نسب نہیں بلکہ ایمان و اسلام تھا۔ وہ ایک دوسرے کی مدد کرتے تھے مگر دنیوی فائدہ کے ليے نہیں بلکہ آخرت کے فائدہ کے ليے۔ وہ ایک دوسرے کو دیتے تھے مگر پانے والےسے کسی بدلہ کی امید میں نہیں بلکہ اللہ سے انعام کی امید میں۔ وہی معاشرہ حقیقۃ ً اسلامی معاشرہ ہے جہاں تعلقات خاندانی رشتوں اور گروہی عصبیتوں پر قائم نہ ہوں بلکہ حق کی بنیاد پر قائم ہوں۔ جہاں لوگ ایک دوسرے کے حامی وناصر اس بنیاد پر ہوں کہ وہ ان کے دینی بھائی ہیں، نہ کہ اس بنیاد پر کہ دنیوی مصلحتوں میں سے کوئی مصلحت ان کے ساتھ وابستہ ہے۔
ایک مسلمان جب دوسرے مسلمان سے حق کے معاملہ میں مدد طلب کرے تو اس وقت اس کی مدد کرنا بالکل لازم ہے۔ اگر مسلمانوں میں باہمی مدد کی یہ روح باقی نہ رہے تو یہ ہوگا کہ شریر لوگ کمزور مسلمانوں پر دلیر ہوجائیں گے اور ان کی زندگی اور ان کے ایمان کا محفوظ رہنا سخت مشکل ہوجائے گا۔ حق کے مخالفین اپنے ساتھیوں کی مدد کے ليے انتهائی متعصب ہوتے ہیں پھر حق کے ماننے والے اپنے ساتھیوں کی مدد میں کیوں نہ سرگرم ہوں۔ اس میں استثنا صرف اس وقت ہے جب کہ معاملہ بین اقوامی ہو اور مسلمانوں کی مدد کرنا بین اقوامی پیچیدگیاں پیدا کرنے کے ہم معنی سمجھا جائے۔
’’ہجرت‘‘ جنت میں داخلہ کا دروازہ ہے۔ ایک بندہ جب خدا کے ناپسندیدہ مقام سے نکل کر خدا کے پسندیدہ مقام کی طرف جاتاہے تو دراصل وہ غیر جنت کو چھوڑ کر جنت میں داخل ہوتا ہے۔