Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 8:71 Prev 8:69


Arabic

يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِيُّ قُل لِّمَن فِيٓ أَيۡدِيكُم مِّنَ ٱلۡأَسۡرَىٰٓ إِن يَعۡلَمِ ٱللَّهُ فِي قُلُوبِكُمۡ خَيۡرٗا يُؤۡتِكُمۡ خَيۡرٗا مِّمَّآ أُخِذَ مِنكُمۡ وَيَغۡفِرۡ لَكُمۡۚ وَٱللَّهُ غَفُورٞ رَّحِيمٞ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

اے نبیؐ، تم لوگوں کے قبضہ میں جو قیدی ہیں ان سے کہو اگر اللہ کو معلوم ہوا کہ تمہارے دلوں میں کچھ خیر ہے تو وہ تمہیں اُس سے بڑھ چڑھ کر دے گا جو تم سے لیا گیا ہے اور تمہاری خطائیں معاف کرے گا، اللہ درگزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے


English (Sahih International)

O Prophet, say to whoever is in your hands of the captives, “If Allah knows [any] good in your hearts, He will give you [something] better than what was taken from you, and He will forgive you; and Allah is Forgiving and Merciful


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 70 یٰٓاَیُّہَا النَّبِیُّ قُلْ لِّمَنْ فِیْٓ اَیْدِیْکُمْ مِّنَ الْاَسْرآیلا اس آیت کا مفہوم سمجھنے کے لیے پس منظر کے طور پر غزوۂ بدر کے قیدیوں کے بارے میں دو باتیں ذہن میں رکھیے۔ ایک تو ان قیدیوں میں بہت سے وہ لوگ بھی شامل تھے جو اپنی مرضی سے جنگ لڑنے نہیں آئے تھے۔ وہ اپنے سرداروں کے دباؤ یا بعض دوسری مصلحتوں کے تحت بادل نخواستہ جنگ میں شریک ہوئے تھے۔ دوسری اہم بات ان کے بارے میں یہ تھی کہ ان میں سے بہت سے لوگ بعض مسلمانوں کے بہت قریبی رشتہ دار تھے۔ خود نبی اکرم ﷺ کے حقیقی چچا حضرت عباس رض بن عبدالمطلب بھی ان قیدیوں میں شامل تھے۔ ان کے بارے میں گمان غالب یہی ہے کہ وہ ایمان تو لا چکے تھے مگر اس وقت تک انہوں نے اپنے ایمان کا اعلان نہیں کیا تھا۔ روایات میں ہے کہ حضرت عباس رض جن رسیوں میں بندھے ہوئے تھے ان کے بند بہت سخت تھے۔ وہ تکلیف کے باعث بار بار کراہتے تو حضور ﷺ ان کی آواز سن کر بےچین ہوجاتے تھے ‘ مگر قانون تو قانون ہے ‘ لہٰذا آپ ﷺ نے ان کے لیے کسی رعایت کی خواہش کا اظہار نہیں فرمایا۔ مگر جب ان کی تکلیف طبیعت پر زیادہ گراں گزری تو آپ ﷺ نے حکم دیا کہ تمام قیدیوں کے بند ڈھیلے کردیے جائیں۔ اسی طرح آپ ﷺ کے داماد ابوالعاص بھی قید ہو کر آئے تھے اور جب آپ ﷺ کی بڑی صاحبزادی حضرت زینب رض نے اپنے شوہر کو چھڑانے کے لیے اپنا ہار فدیے کے طور پر بھیجا ‘ جو ان کو حضرت خدیجہ رض نے ان کی شادی کے موقع پر دیا تھا تو حضور ﷺ کے لیے بڑی رقت آمیز صورت حال پیدا ہوگئی۔ آپ ﷺ نے جب وہ ہار دیکھا تو آپ ﷺ کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ حضرت خدیجہ رض کے ساتھ گزاری ہوئی ساری زندگی ‘ آپ رض کی خدمت گزاری اور وفا شعاری کی یاد مجسم ہو کر نگاہوں کے سامنے آگئی۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ آپ لوگ اگر اجازت دیں تو یہ ہار واپس کردیا جائے تاکہ ماں کی نشانی بیٹی کے پاس ہی رہے۔ چناچہ سب کی اجازت سے وہ ہار واپس بھجوا دیا گیا۔ یوں قیدیوں کے ساتھ اکثر مہاجرین کے خونی رشتے تھے ‘ اس لیے کہ یہ سب لوگ ایک ہی خاندان اور ایک ہی قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔ یہاں نبی اکرم ﷺ سے خطاب کر کے کہا جا رہا ہے کہ آپ کے قبضے میں جو قیدی ہیں آپ ان سے کہہ دیجیے :اِنْ یَّعْلَمِ اللّٰہُ فِیْ قُلُوْبِکُمْ خَیْرًا یُّؤْتِکُمْ خَیْرًا مِّمَّآ اُخِذَ مِنْکُمْ یعنی تمہاری نیتوں کا معاملہ تمہارے اور اللہ کے مابین ہے ‘ جبکہ برتاؤ تمہارے ساتھ خالصتاً قانون کے مطابق ہوگا۔ تم سب لوگ جنگ میں کفار کا ساتھ دینے کے لیے آئے تھے اور اب قانوناً جنگی قیدی ہو۔ جنگ میں کوئی اپنی خوشی سے آیا تھا یا مجبوراً ‘ کوئی دل میں ایمان لے کر آیا تھا یا کفر کی حالت میں آیا تھا ‘ ان سب باتوں کی حقیقت کو اللہ خوب جانتا ہے اور وہ دلوں کی نیتوں کے مطابق ہی تم سب کے ساتھ معاملہ کرے گا اور جس کے دل میں خیر اور بھلائی پائے گا اس کو کہیں بہتر انداز میں وہ اس بھلائی کا صلہ دے گا۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 70 and 71.

بدر کے قیدیوں کو فدیہ لے کر چھوڑنا مسلمانوں کے ليے ایک جنگي غلطی تھی۔ مگر خود قیدیوں کے حق میں یہ ایک نئی زندگی فراہم کرنے کے ہم معنیٰ تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ وہ لوگ جو اپنی مخالفتِ حق کے نتیجہ میں ہلاکت کے مستحق ہوچکے تھے ان کو ایک بار اور موقع مل گیا کہ وہ اسلام کی دعوت اور اس کے مقابلہ میں اپنی بے جا روش پر دوبارہ غور کرسکیں۔ اس مہلت نے ان کے ليے اپنی اصلاح کا نیا دروازہ کھول دیا۔

اب ایک صورت یہ تھی کہ ان قیدیوں کے دل میں شکست کی بنا پر انتقام کی آگ بھڑکے۔ فدیہ دینے کی وجہ سے ان کو جو ذلت اور نقصان ہوا ہے اس کا بدلہ لینے کے ليے وہ بے چین ہوجائیں۔ ایسی صورت میں وہ پھر اسی غلطی کو دہرائیں گے جس کے نتیجے میں وہ خدا کی پکڑ کے مستحق بن گئے تھے۔ وہ اپنی قوتوں کو اسلام کی مخالفت میں صرف کریںگے، جس کا انجام دنیا میں ہلاکت ہے اور آخرت میں عذاب۔

دوسری صورت یہ تھی کہ وہ بدر کے میدان میں پیش آنے والے غیر معمولی واقعہ پر غور کریں کہ مسلمانوں کو کم تر اسباب کے باوجود اتنی کھلی ہوئی فتح کیوں نصیب ہوئی۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ خدا مسلمانوں کے دین کے ساتھ ہے، نہ کہ قریش کے دین کے ساتھ۔ یہ دوسرا ذہن اگر پیدا ہوجائے تو وہ ان کو آمادہ کرے گا کہ وہ اپنی سابقہ روش کو بدلیں اور جس دین کو پہلے اختیار نہ کرسکے، اس کو اب سے اختیار کرلیں۔ اور اس طرح دنیا اور آخرت میں خداکے انعام کے مستحق بنیں۔

تاریخ بتاتی ہے کہ قریش کے لوگوں میں ایک تعداد ایسی نکلی جن کے دل میں مذکورہ سوال جاگ اٹھا اور جلد یا بدیر وہ اسلام میں داخل ہوگئے۔ حضرت عباس بن عبد المطلب نے زمانہ قید ہی میں اسلام قبول کرلیا۔ کچھ دوسرے لوگ بعد کو اسلام کے حلقہ میں آگئے۔ یہ لوگ اگرچہ گروہی تعصب کی نظر میں ذلیل ہوئے مگر انھوں نے خدا کی نظر میں عزت حاصل کرلی۔ دنیا کا نقصان اٹھا کر وہ آخرت کے فائدہ کے مالک بن گئے۔

قیدیوں کو چھوڑنے کی وجہ سے مسلمانوں کو یہ اندیشہ تھا کہ وہ اس کو احسان سمجھ کر اس کا اعتراف نہیں کریں گے بلکہ پہلے کی طرح دوبارہ سازش اور تخریب کاری کا راستہ اختیار کرکے اسلام کی راه میں رکاوٹ بن جائیں گے۔ مگر قرآن نے اس اندیشہ کو اہمیت نہ دی۔ کیوں خالص حق کے ليے جو تحریک اٹھتی ہے وہ عام طرز کی انسانی تحریک نہیں ہوتی۔ وہ ایک خدائی معاملہ ہوتاہے۔ اس کی پشت پر خود خدا ہوتا ہے اور خدا سے لڑنا کسی کے بس کی بات نہیں۔


Connections

  • Previous: 8_69
  • Next: 8_71
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes