Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَن يَكُونَ لَهُۥٓ أَسۡرَىٰ حَتَّىٰ يُثۡخِنَ فِي ٱلۡأَرۡضِۚ تُرِيدُونَ عَرَضَ ٱلدُّنۡيَا وَٱللَّهُ يُرِيدُ ٱلۡأٓخِرَةَۗ وَٱللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٞ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
کسی نبی کے لیے یہ زیبا نہیں ہے کہ اس کے پاس قیدی ہوں جب تک کہ وہ زمین میں دشمنوں کو اچھی طرح کچل نہ دے تم لوگ دنیا کے فائدے چاہتے ہو، حالانکہ اللہ کے پیشِ نظر آخرت ہے، اور اللہ غالب اور حکیم ہے
English (Sahih International)
It is not for a prophet to have captives [of war] until he inflicts a massacre [upon Allah ‘s enemies] in the land. Some Muslims desire the commodities of this world, but Allah desires [for you] the Hereafter. And Allah is Exalted in Might and Wise
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 67 مَا کَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّکُوْنَ لَہٗٓ اَسْرٰی حَتّٰی یُثْخِنَ فِی الْاَرْضِ ط۔یہ آیت غزوۂ بدر میں پکڑے جانے والے قیدیوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ غزوۂ بدر میں قریش کے ستر لوگ قیدی بنے۔ ان کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے صحابہ رض سے مشاورت کی۔ حضرت ابوبکر رض کی رائے تھی کہ ان لوگوں کے ساتھ نرمی کی جائے اور فدیہ وغیرہ لے کر انہیں چھوڑ دیا جائے۔ خود حضور ﷺ چونکہ رؤف و رحیم اور رقیق القلب تھے اس لیے آپ ﷺ کی بھی یہی رائے تھی۔ مگر حضرت عمر رض اس اعتبار سے بہت سخت گیر تھے اَشَدُّ ھُمْ فِی اَمْرِ اللّٰہِ عُمَرِ ۔ آپ رض کی رائے یہ تھی کہ یہ لوگ آزاد ہو کر پھر کفر کے لیے تقویت کا باعث بنیں گے ‘ اس لیے جب تک کفر کی کمر پوری طرح ٹوٹ نہیں جاتی ان کے ساتھ نرمی نہ کی جائے۔ آپ رض کا اصرار تھا کہ تمام قیدیوں کو قتل کردیا جائے ‘ بلکہ مہاجرین اپنے قریب ترین عزیزوں کو خود اپنے ہاتھوں سے قتل کریں۔ بعد میں ان قیدیوں کو فدیہ لے کر چھوڑنے کا فیصلہ ہوا اور اس پر عمل درآمد بھی ہوگیا۔ اس فیصلے پر اس آیت کے ذریعے گرفت ہوئی کہ جب تک باطل کی کمر پوری طرح سے توڑ نہ دی جائے اس وقت تک حملہ آور کفار کو جنگی قیدی بنانا درست نہیں۔ انہیں قیدی بنانے کا مطلب یہ ہے کہ وہ زندہ رہیں گے ‘ اور آج نہیں تو کل انہیں چھوڑنا ہی پڑے گا۔ لہٰذا وہ پھر سے باطل کی طاقت کا سبب بنیں گے اور پھر سے تمہارے خلاف لڑیں گے۔ تُرِیْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْیَاق یہ فدیے کی طرف اشارہ ہے۔ اب نہ تو رسول اللہ ﷺ کی یہ نیت ہوسکتی تھی معاذ اللہ اور نہ ہی حضرت ابوبکر رض کی ‘ لیکن اللہ تعالیٰ کا معاملہ ایسا ہے کہ اس کے ہاں جب اپنے مقرب بندوں کی گرفت ہوتی ہے تو الفاظ بظاہر بہت سخت استعمال کیے جاتے ہیں۔ چناچہ ان الفاظ میں بھی ایک طرح کی سختی موجود ہے ‘ لیکن ظاہر ہے کہ یہ بات نہ حضور ﷺ کے لیے ہے اور نہ حضرت ابوبکر رض کے لیے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 67 to 69.
بدر کی لڑائی میں مسلمانوں نے ستر بڑے بڑے مشرکینِ مکہ کو قتل کیا۔ اس کے بعد جب ان کے پاؤں اکھڑنے لگے تو ان کے 70آدمیوں کو گرفتار کرلیا۔ ان گرفتار ہونے والوں میں اکثر سردار تھے۔ جنگ کے بعد مشورہ ہوا کہ ان قيدیوں کے ساتھ کیا کیا جائے۔ صحابہ کی اکثریت نے یہ رائے دی کہ ان کو فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے۔ اس وقت اسلام دشمنوں نے مسلسل حالت جنگ برپا کر رکھی تھی۔ مگر مسلمانوں کے پاس مال نہ ہونے کی وجہ سے سامانِ جنگ کی بہت کمی تھی۔ یہ خیال کیاگیا کہ فدیہ سے جو رقم ملے گی اس سے سامانِ جنگ خریدا جاسکتا ہے۔ حضرت عمر بن خطاب اور حضرت سعد بن معاذ اس رائے کے خلاف تھے۔ حضرت عمر نے کہا اے خدا کے رسول یہ قیدی کفر کے امام اور مشرکین کے سردار ہیں۔ یعنی اس وقت دشمنوں کی اصل طاقت ہماری مٹھی میں آگئی ہے، ان کو قتل کرکے اس مسئلہ کا ہمیشہ کے ليے خاتمہ کردیا جائے۔ تاہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی رائے پر عمل فرمایا۔
بعد کو جب وہ آیتیں اتریں جن میں جنگ پر تبصرہ تھا تو اللہ تعالیٰ نے فدیہ کی رقم کو جائز ٹھہراتے ہوئے اس روش پر اپنی ناراضگی کا اظہار فرمایا۔ جنگی قیدیوں کو فدیہ لے کر چھوڑنا اگرچہ بظاہر رحمت وشفقت کا معاملہ تھا۔ مگر وہ اللہ کے دور رس منصوبہ کے مطابق نہ تھا۔ اللہ کا اصل منصوبہ کفروشرک کی جڑ اکھاڑنا تھا۔ اس مقصد کے ليے اللہ تعالیٰ نے قریش کے تمام لیڈروں کو (ابولہب اور ابوسفیان کو چھوڑ کر) بدر کے میدان میں جمع کردیا اور ایسے حالات پیدا كيے کہ وہ پوری طرح مسلمانوں کے قابو میںآگئے۔ اگر ان لیڈروں کو اس وقت ختم کردیا جاتا تو کفر وشرک کی مزاحمت بدر کے میدان میں پوری طرح دفن ہو جاتی۔ مگر لیڈروں کو چھوڑنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ منظم ہو کر دوبارہ اپنی مزاحمت کی تحریک جاری رکھنے کے قابل ہوگئے۔
یہ فیصلہ جنگی مصلحت کے خلاف تھا۔ وہ مسلمانوں کے ليے عذاب عظیم (سخت مصیبتوں) کا باعث بن جاتا۔ یہ لیڈر اپنے عوام کو ساتھ لے کر اسلام کے سارے معاملہ کو تہس نہس کردیتے۔ مگر اللہ نے آخری رسول اورآپ کے اصحاب کے ليے پہلے سے مقدر کردیا تھا کہ وہ لازماً غالب رہیں گے، ان کو زیر کرنے میں کوئی کامیاب نہ ہوسکے گا۔ یہی وجہ ہے کہ جنگی تدبیرمیں اس کوتاہی کے باوجود قریش اہل ایمان کے اوپر غالب نہ آسکے۔ اور بالآخر وہی ہوا جس کا ہونا پہلے سے خدا کے یہاں لکھا جاچکا تھا، یعنی مسلمانوں کی فتح اور اسلام کا غلبہ۔