Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِيُّ حَسۡبُكَ ٱللَّهُ وَمَنِ ٱتَّبَعَكَ مِنَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اے نبیؐ، تمہارے لیے اور تمہارے پیرو اہلِ ایمان کے لیے تو بس اللہ کافی ہے
English (Sahih International)
O Prophet, sufficient for you is Allah and for whoever follows you of the believers
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 64 یٰٓاَیُّہَا النَّبِیُّ حَسْبُکَ اللّٰہُ وَمَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ۔اگر اس آیت کو پچھلی آیت کے ساتھ تسلسل سے پڑھا جائے تو اس کا ترجمہ یہی ہوگا جو اوپر کیا گیا ہے ‘ لیکن اس کا دوسرا ترجمہ یوں ہوگا : اے نبی ﷺ اللہ کافی ہے آپ کے لیے بھی اور جو آپ کی پیروی کرنے والے مسلمان ہیں ان کے لیے بھی۔ عبارت کا انداز ایسا ہے کہ اس میں یہ دونوں مفاہیم آگئے ہیں۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 64 to 66.
اہلِ ایمان کی تعداد غیر اہل ایمان کی زیادہ تعداد پر غالب آنے کی وجہ یہ بتائی کہ اہلِ ایمان کے اندر فقہ ہوتی ہے جب کہ غیر اہلِ ایمان فقہ سے محروم ہیں۔ فقہ کے لفظی معنی سمجھ کے ہیں۔ اس سے مراد وہ بصیرت اور شعور ہے جو ایمان کے نتیجہ میںایک شخص کو حاصل ہوتاہے۔ خدا پر ایمان کسی آدمی کے ليے وہی معنی رکھتا ہے جو اندھیرے کمرے میں بجلی كے بلب كا جل جانا۔ بلب پورے کمرے کو اس طرح روشن کردیتاہے کہ اس کی ہر چیز واضح طورپر دکھائی دینے لگے۔اسی طرح ایمان آدمی کو ایک ربانی شعور عطا کرتاہے جس کے بعد وہ تمام حقیقتوں کو ان کی اصلی صورت میں دیکھنے لگتا ہے۔
ایمان کے نتیجہ میں یہ ہوتاہے کہ آدمی زندگی اور موت کی حقیقت کو سمجھ لیتاہے ۔ وہ جان لیتاہے کہ اصل چیز حیاتِ دنیا نہیں بلکہ حیات ِآخرت ہے۔ یہ چیز اس کو بے پناہ حد تک نڈر بنادیتی ہے۔ وہ موت کو اس نظر سے دیکھنے لگتاہے کہ وہ اس کے ليے جنت میںداخلہ کا دروازہ ہے۔ مومن شہادت کو جنت کا مختصر راستہ سمجھتاہے۔ اللہ کی راہ میں جان دینا اس کے ليے مطلوب چیز بن جاتاہے، جب کہ غیر مومن کی جنت یہی موجودہ دنیا ہے۔ وہ زندہ رہنا چاہتا ہے تاکہ اپنی جنت کا لطف اٹھاسکے۔ غیر مومن قومی شعور کے تحت لڑتاہے اورمومن جنتی شعور کے تحت، اور قومی شعور والا کبھی اتنی بے جگری کے ساتھ نہیں لڑ سکتا۔
مومن خدا سے ڈرنے والا ہوتاہے، وہ آخرت کی فکر کرنے والا ہوتا ہے، یہ مزاج اس کو ہر قسم کے منفی جذبات سے پاک کرتاہے۔ وہ ضد، نفرت، تعصب، انتقام اور گھمنڈ جیسی چیزوں سے اوپر اٹھ جاتاہے۔ دوسری طرف غیر مومن کا معاملہ سراسر اس کے برعکس ہوتاہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتاہے کہ غیر مومن کے اقدامات منفی نفسیات کے تحت ہوتے ہیں اور مومن کے اقدامات ایجابی نفسیات کے تحت۔ غیر مومن جذباتی انداز سے عمل کرتاہے اور مومن حقیقت پسندانہ انداز سے۔ غیر مومن انسانوں کا دشمن ہوتاہے اور مومن صرف انسانوں کی برائی کا۔ غیر مومن تنگ ظرفی کے ساتھ معاملہ کرتاہے اور مومن وسعتِ ظرف کے ساتھ۔
ہزار کے مقابلہ میں سو اور دوہزار کے مقابلہ میں ایک ہزار کے الفاظ بتاتے ہیں کہ قتال کا حکم جماعت اور فوج کے ليے ہے۔ ایسا کرنا صحیح نہ ہوگا کہ ایک دو آدمی ہوںتب بھی وہ لڑنے کے ليے کھڑے ہوجائیں۔