Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
ٱلَّذِينَ عَٰهَدتَّ مِنۡهُمۡ ثُمَّ يَنقُضُونَ عَهۡدَهُمۡ فِي كُلِّ مَرَّةٖ وَهُمۡ لَا يَتَّقُونَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
(خصوصاً) ان میں سے وہ لوگ جن کے ساتھ تو نے معاہدہ کیا پھر وہ ہر موقع پر اس کو توڑتے ہیں اور ذرا خدا کا خوف نہیں کرتے
English (Sahih International)
The ones with whom you made a treaty but then they break their pledge every time, and they do not fear Allah
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 56 اَلَّذِیْنَ عٰہَدْتَّ مِنْہُمْ ثُمَّ یَنْقُضُوْنَ عَہْدَہُمْ فِیْ کُلِّ مَرَّۃٍ وَّہُمْ لاَ یَتَّقُوْنَ ۔یہ اشارہ یہود مدینہ کی طرف ہے۔ رسول اللہ ﷺ جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ ﷺ نے آتے ہی یہودیوں سے مذاکرات شروع کیے اور نتیجتاً مدینہ کے تینوں یہودی قبائل سے شہر کے مشترکہ دفاع کا معاہدہ کرلیا۔ پروفیسر منٹگمری واٹ 1909 ء تا 2006 ء نے اس معاہدے کو آپ ﷺ کا ایک بہت بڑا مدبرانہ کارنامہ قرار دیا ہے۔ اس نے اس سلسلے میں آپ ﷺ کی معاملہ فہمی اور سیاسی بصیرت کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا ہے۔ ظاہری طور پر اگرچہ یہودی اس معاہدے کے پابند تھے مگر خفیہ طور پر مسلمانوں کے خلاف سازشوں سے بھی باز نہیں آتے تھے۔ انہوں نے ہر مشکل مرحلے پر اس معاہدے کا پاس نہ کرتے ہوئے آپ ﷺ کے دشمنوں کے ساتھ ساز باز کی ‘ حتیٰ کہ غزوۂ احزاب کے انتہائی نازک موقع پر قریش کو خفیہ طور پر پیغامات بھجوائے کہ آپ لوگ باہر سے شہر پر حملہ کردیں ‘ ہم اندر سے تمہاری مدد کریں گے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
The commentary on this ayah is given with ayah 8:55.