Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 8:6 Prev 8:4


Arabic

كَمَآ أَخۡرَجَكَ رَبُّكَ مِنۢ بَيۡتِكَ بِٱلۡحَقِّ وَإِنَّ فَرِيقٗا مِّنَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ لَكَٰرِهُونَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

(اِس مال غنیمت کے معاملہ میں بھی ویسی ہی صورت پیش آ رہی ہے جیسی اُس وقت پیش آئی تھی جبکہ) تیرا رب تجھے حق کے ساتھ تیرے گھر سے نکال لایا تھا اور مومنوں میں سے ایک گروہ کو یہ سخت ناگوار تھا


English (Sahih International)

[It is] just as when your Lord brought you out of your home [for the battle of Badr] in truth, while indeed, a party among the believers were unwilling


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 5 کَمَآ اَخْرَجَکَ رَبُّکَ مِنْم بَیْتِکَ بالْحَقِّص وَاِنَّ فَرِیْقًًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ لَکٰرِہُوْنَ ۔یہ اس پہلی مشاورت کا ذکر ہے جو رسول اللہ ﷺ نے صحابہ رض سے مدینہ ہی میں فرمائی تھی۔ لشکر کے میدان بدر کی طرف روانگی کو ناپسند کرنے والے دو قسم کے لوگ تھے۔ ایک تو منافقین تھے جو کسی قسم کی آزمائش میں پڑنے کو تیار نہیں تھے۔ وہ اپنے منصوبے کے تحت اس طرح کی کسی مہم جوئی کی روایت کو Nip the evil in the budکے مصداق ابتدا ہی میں ختم کرنا چاہتے تھے۔ اس کے لیے ان کے دلائل بظاہر بڑے بھلے تھے کہ لڑائی جھگڑا اچھی بات نہیں ہے ‘ ہمیں تو اچھی باتوں اور اچھے اخلاق سے دین کی تبلیغ کرنی چاہیے ‘ اور لڑنے بھڑنے سے بچنا چاہیے ‘ وغیرہ وغیرہ۔ دوسری طرف کچھ نیک سرشت سچے مؤمن بھی ایسے تھے جو اپنے خاص مزاج اور سادہ لوحی کے سبب یہ رائے رکھتے تھے کہ ابھی تک قریش کی طرف سے تو کسی قسم کا کوئی اقدام نہیں ہوا ‘ لہٰذا ہمیں آگے بڑھ کر پہل نہیں کرنی چاہیے۔ زیر نظر آیت میں دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا گیا ہے کہ حضور ﷺ کا بدر کی طرف روانہ ہونا اللہ تعالیٰ کی تدبیر کا ایک حصہ تھا۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 5 to 8.

شعبان 2 ھ میں معلوم ہوا کہ قریش کا ایک تجارتی قافلہ شام سے مکہ کی طرف واپس جا رہا ہے۔ اس قافلہ کے ساتھ تقریباً 50 ہزار اشرفی کا سامان تھا۔ اس کا راستہ مدینہ کے قریب سے گزرتا ہے۔ یہ اندیشہ تھا کہ مسلمان اپنے دشمنوں کے قافلۂ تجارت پر حملہ کریں۔ چنانچہ قافلہ کے سردار ابو سفیان بن حرب نے تیز رفتار اونٹنی کے ذریعہ مکہ والوں کے پاس یہ خبر بھیجی کہ مدد کے ليے دوڑو ورنہ مسلمان تجارتی قافلہ کو لوٹ لیں گے۔ مکہ میں اس خبر سے بڑا جوش پیدا ہوگیا۔ چنانچہ 950 سوار جن میں 600 زرہ پوش تھے مکہ سے نکل کر مدینہ کی طرف روانہ ہوئے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی تمام خبریں مل رہی تھیں۔ اب مدینہ کے مسلمان دو گروہوں کے درمیان تھے۔ ایک شام سے آنے والا تجارتی قافلہ۔ دوسرا مکہ سے مدینہ کی طرف بڑھنے والا جنگی لشکر۔ مسلمانوں کے ایک طبقہ میں یہ ذہن پیدا ہوا کہ تجارتی قافلہ کی طرف بڑھا جائے۔ اس قافلہ کے ساتھ بمشکل 40 محافظ تھے۔ اس کو به آسانی مغلوب کرکے اس کے سامان پر قبضہ کیا جاسکتاتھا۔ مگر خدا کا منصوبہ دوسرا تھا۔ خدا کو دراصل منکرین حق کا زور توڑنا تھا، نہ کہ کچھ اقتصادی فائدہ حاصل کرنا۔ خدا نے مخصوص حالات پیدا کرکے ایسا کیا کہ تمام مخالف سرداروں کو مکہ سے نکالا اور ان کو مدینہ سے 20 میل کے فاصلہ پر بدر کے مقام پر پہنچا دیا تاکہ مسلمانوں کو ان سے ٹکرا کر ہمیشہ کے ليے ان کا خاتمہ کردیا جائے۔ اللہ کے رسول نے جب مسلمانوں کو خدا کے اس منصوبہ سے مطلع کیا تو سب کے سب متفق ہو کر بدر کی طرف بڑھے۔ ان کی تعداد اگر چہ صرف

313

تھی۔ ان کے پاس ہتھیار کم تھے۔ مگر اللہ نے ان کی خصوصی مدد فرمائی۔ انھوں نے قریش کے لشکر کو بری طرح شکست دی۔ ان کے ستر سردار قتل ہوئے اور ستر گرفتار کر ليے گئے۔ بد رکا میدان کفر کے مقابلہ میں اسلام کی فتح کا میدان بن گیا— جب بھی ایسا ہو کہ ایک طرف مادی فائدہ ہو اور دوسری طرف دینی فائدہ تو یہ تقسیم خود اس بات کا ثبوت ہے کہ خدا کی مرضی دینی فائدہ کی طرف ہے، نہ کہ مادی فائدہ کی طرف۔

اسلامی جدوجہد کا نشانہ کبھی معاشی مفاد حاصل کرنا نہیں ہوتا۔ اسلامی جدوجہد کا نشانہ ہمیشہ باطل کا زور توڑنا ہوتاہے۔ خواہ وہ نظریاتی طاقت کے ذریعہ ہو یا حالات کے اعتبار سے مادی طاقت کے ذریعہ۔


Connections

  • Previous: 8_4
  • Next: 8_6
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes