Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 8:42 Prev 8:40


Arabic

۞وَٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّمَا غَنِمۡتُم مِّن شَيۡءٖ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُۥ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي ٱلۡقُرۡبَىٰ وَٱلۡيَتَٰمَىٰ وَٱلۡمَسَٰكِينِ وَٱبۡنِ ٱلسَّبِيلِ إِن كُنتُمۡ ءَامَنتُم بِٱللَّهِ وَمَآ أَنزَلۡنَا عَلَىٰ عَبۡدِنَا يَوۡمَ ٱلۡفُرۡقَانِ يَوۡمَ ٱلۡتَقَى ٱلۡجَمۡعَانِۗ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٌ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

اور تمہیں معلوم ہو کہ جو کچھ مال غنیمت تم نے حاصل کیا ہے اس کا پانچواں حصہ اللہ اور اس کے رسُولؐ اور رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے اگر تم ایمان لائے ہو اللہ پر اور اس چیز پر جو فیصلے کے روز، یعنی دونوں فوجوں کی مڈبھیڑ کے دن، ہم نے اپنے بندے پر نازل کی تھی، (تو یہ حصہ بخوشی ادا کرو) اللہ ہر چیز پر قادر ہے


English (Sahih International)

And know that anything you obtain of war booty - then indeed, for Allah is one fifth of it and for the Messenger and for [his] near relatives and the orphans, the needy, and the [stranded] traveler, if you have believed in Allah and in that which We sent down to Our Servant on the day of criterion - the day when the two armies met. And Allah, over all things, is competent


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 41 وَاعْلَمُوْٓا اَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَاَنَّ لِلّٰہِ خُمُسَہٗ وَلِلرَّسُوْلِ وَلِذِی الْقُرْبٰی اس آیت میں مال غنیمت کا حکم بیان ہو رہا ہے۔ واضح رہے کہ بعثت کے بعد سے رسول اللہ ﷺ کا ذریعہ معاش کوئی نہیں تھا۔ شادی کے بعد حضرت خدیجہ رض نے اپنی ساری دولت ہر قسم کے تصرف کے لیے آپ ﷺ کو پیش کردی تھی۔ جب تک آپ ﷺ مکہ میں رہے ‘ کسی نہ کسی طرح اسی سرمائے سے آپ ﷺ کے ذاتی اخراجات چلتے رہے ‘ لیکن ہجرت کے بعد اس سلسلے میں کوئی مستقل انتظام نہیں تھا۔ پھر آپ ﷺ کے قرابت دار اور اہل و عیال بھی تھے جن کی کفالت آپ ﷺ کے ذمہ تھی۔ ان سب اخراجات کے لیے ضروری تھا کہ کوئی معقول اور مستقل انتظام کردیا جائے۔ چناچہ غنائم میں سے پانچواں حصہ مستقل طور پر بیت المال کو دے دیا گیا اور آپ ﷺ کے ذاتی اخراجات ‘ ازواج مطہرات رض کا نان نفقہ اور آپ ﷺ کے قرابت داروں کی کفالت بیت المال کے ذمہ طے پائی۔وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیْنِ وَابْنِ السَّبِیْلِلا اسی پانچویں حصے میں سے معاشرے کے محروم افراد کی مدد بھی کی جائے گی۔اِنْ کُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ باللّٰہِ وَمَآ اَنْزَلْنَا عَلٰی عَبْدِنَا یَوْمَ الْفُرْقَانِ یَوْمَ الْتَقَی الْجَمْعٰنِ ط وَاللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ فیصلے غزوۂ بدر کے دن جو شے خصوصی طور پر نازل کی گئی وہ غیبی امداد اور نصرت الٰہی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا تھا کہ تمہاری مدد کے لیے فرشتے آئیں گے۔ وہ فرشتے اگرچہ کسی کو نظر تو نہیں آتے تھے ‘ لیکن جیسے تم لوگ بہت سی دوسری چیزوں پر ایمان بالغیب رکھتے ہو ‘ اللہ پر اور اس کی وحی پر ایمان رکھتے ہو ‘ جبرائیل علیہ السلام کے وحی لانے پر ایمان رکھتے ہو اور اس قرآن کے منزل من اللہ ہونے پر ایمان رکھتے ہو ‘ اسی طرح تمہارا یہ ایمان بھی ہونا چاہیے کہ اللہ نے اپنا وعدہ پورا کردیا جو اس نے اپنے رسول ﷺ اور مسلمانوں کی مدد کے سلسلے میں کیا تھا اور یہ کہ تمہاری یہ فتح اللہ کی مدد سے ہی ممکن ہوئی ہے۔ اگر تم لوگوں کا اس حقیقت پر یقین کامل ہے تو پھر اللہ کا یہ فیصلہ بھی دل کی آمادگی اور خوشی سے قبول کرلو کہ مال غنیمت میں سے پانچواں حصہ اللہ ‘ اس کے رسول ﷺ اور بیت المال کا ہوگا۔اس حکم کے نازل ہونے کے بعد تمام مال غنیمت ایک جگہ جمع کیا گیا اور اس میں سے پانچواں حصہ بیت المال کے لیے نکال کر باقی چار حصے مجاہدین میں تقسیم کردیے گئے۔ اس میں سے ہر اس شخص کو برابر کا حصہ ملا جو لشکر میں جنگ کے لیے شامل تھا ‘ قطع نظر اس کے کہ کسی نے عملی طور پر قتال کیا تھا یا نہیں کیا تھا اور قطع نظر اس کے کہ کسی نے بہت سا مال غنیمت جمع کیا تھا یا کسی نے کچھ بھی جمع نہیں کیا تھا۔ البتہ اس تقسیم میں سوار کے دو حصے رکھے گئے اور پیدل کے لیے ایک حصہ۔ اس لیے کہ سواریوں کے جانور مہیّا کرنے اور ان جانوروں پر اٹھنے والے اخراجات متعلقہ افراد ذاتی طور پر برداشت کرتے تھے۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

غنیمت عربی زبان میں اس مال کو کہتے ہیں جو میدانِ جنگ میں دشمن سے لڑکر حاصل کیا گیاہو۔ قدیم زمانہ میں یہ رواج تھا کہ جنگ کے بعد دشمن کی جو چیز جس کے ہاتھ لگے وہ اسی کی سمجھی جائے۔ اسلام نے یہ اصول مقرر کیا کہ ہر ایک کو جو کچھ ملا وہ سب کا سب لاکر امیر کے پاس جمع کرے، کوئی شخص سوئی کا دھاگا تک چھپا کر نہ رکھے۔

اس طرح سارا مالِ غنیمت اکھٹا کرنے کے بعد اس میں سے پانچواں حصہ خدا کا ہے جس کو رسول نیابت کے طورپر وصول کرکے پانچ جگہ اس طرح خرچ کرے گا کہ — ایک حصہ اپنی ذات پر، پھر اپنے ان رشتہ داروں پر جنھوں نے رشتہ کی بنیاد پر مشکل وقتوں میں آپ کے دینی مشن میں آپ کا ساتھ دیا، اور یتیموں پر اور حاجت مندوں پر اور مسافروں پر — اس کے بعد بقیہ چار حصے کو تمام فوجیوں کے درمیان اس طرح تقسیم کیا جائے گا کہ سوار کو دو حصہ ملے اور پیدل کو ایک حصہ۔

اسلام یہ ذہن بنانا چاہتا ہے کہ آدمی جو چیز پائے اس کو وہ خدا کی طرف سے ملی ہوئی چیز سمجھے۔ اس دنیا میں کسی واقعہ کو ظہور میں لانے کے ليے بے شمار اسباب کی بیک وقت موافقت ضروری هے جو کسی بھی انسان کے بس میں نہیں۔ بدر کی لڑائی میںایک بے حد طاقت ور گروہ کے مقابلہ میں ایک کمزور گروہ کا فیصلہ کن طورپر غلبہ پانا اس بات کا ایک غیر معمولی ثبوت تھا کہ جو کچھ ہوا ہے وہ خدا کی طرف سے ہوا ہے۔ ایسی حالت میں فتح کے بعد ملی ہوئی چیز کو خدا کی طرف سے ملی ہوئی چیز سمجھنا عین اس حقیقت کو ماننا تھا جو واقعات کے نتیجے میں فطری طورپر سامنے آئی ہے۔

مال غنیمت میں دوسرے مستحق بھائیوں کا حصہ رکھنا اس بات کا سبق ہے کہ اموال میں حق دار ہونے کی بنیاد صرف محنت اور وراثت نہیں بلکہ ایسی بنیادیں بھی ہیں جو محنت اور وراثت جیسی چیزوں کے دائرہ میں نہیں آتیں۔ استحقاق کی ان دوسری مدوں کا اعتراف گویا اس واقعہ کا عملی اعتراف ہے کہ آدمی چیزوں کو خدا کی چیز سمجھتا ہے، نہ کہ اپنی چیز۔

غنیمت کے اس قانون میں تیسرا زبردست سبق یہ ہے کہ ملکیت کی بنیاد قبضہ نہیں بلکہ اصول ہے۔ کوئی شخص محض اس بنا پر کسی چیز کا مالک نہیں بن جائیگا کہ وہ اتفاق سے اس کے قبضہ میں آگئی ہے۔ قبضہ کے باوجود آدمی کو چاہيے کہ وه اس چیز کو ذمہ دار افراد کے حوالے کردے اور اصولی اور قانونی بنیاد پر اس کو جتنا ملنا چاہیے اس کو لے کر اس پر راضی ہوجائے۔


Connections

  • Previous: 8_40
  • Next: 8_42
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes