Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَقَٰتِلُوهُمۡ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتۡنَةٞ وَيَكُونَ ٱلدِّينُ كُلُّهُۥ لِلَّهِۚ فَإِنِ ٱنتَهَوۡاْ فَإِنَّ ٱللَّهَ بِمَا يَعۡمَلُونَ بَصِيرٞ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اے ایمان لانے والو، ان کافروں سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین پورا کا پورا اللہ کے لیے ہو جائے پھر اگر وہ فتنہ سے رُک جائیں تو ان کے اعمال کا دیکھنے والا اللہ ہے
English (Sahih International)
And fight them until there is no fitnah and [until] the religion, all of it, is for Allah. And if they cease - then indeed, Allah is Seeing of what they do
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
This commentary covers ayaat 39 and 40.
آیت 39 وَقَاتِلُوْہُمْ حَتّٰی لاَ تَکُوْنَ فِتْنَۃٌ وَّیَکُوْنَ الدِّیْنُ کُلُّہٗ لِلّٰہِ ج۔یہی حکم سورة البقرۃ کی آیت 193 میں بھی آچکا ہے۔ البتہ یہاں اس کے الفاظ میں کُلُّہٗکی اضافی شان اور مزید تاکید پائی جاتی ہے۔ یعنی اے مسلمانو ! تمہاری تحریک کو شروع ہوئے پندرہ برس ہوگئے۔ اس دوران میں دعوت ‘ تنظیم ‘ تربیت اور صبر محض کے مراحل کامیابی سے طے ہوچکے ہیں۔ چناچہ اب passive resistance کا دور ختم سمجھو۔ نبی اکرم ﷺ کی طرف سے اقدام active resistance کا آغاز ہوچکا ہے اور اس اقدام کے نتیجے میں اب یہ تحریک مسلح تصادم armed conflict کے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔ لہٰذا جب ایک دفعہ تلواریں تلواروں سے ٹکرا چکی ہیں تو تمہاری یہ تلواریں اب واپس نیاموں میں اس وقت تک نہیں جائیں گی جب تک یہ کام مکمل نہ ہوجائے اور اس کام کی تکمیل کا تقاضا یہ ہے کہ فتنہ بالکل ختم ہوجائے۔ فتنہ کسی معاشرے کے اندر باطل کے غلبے کی کیفیت کا نام ہے جس کی وجہ سے اس معاشرے کے لوگوں کے لیے ایمان پر قائم رہنا اور اللہ کے احکامات پر عمل کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ لہٰذا یہ جنگ اب اس وقت تک جاری رہے گی جب تک باطل مکمل طور پر مغلوب اور اللہ کا دین پوری طرح سے غالب نہ ہوجائے۔ اللہ کے دین کا یہ غلبہ جزوی طور پر بھی قابل قبول نہیں بلکہ دین کل کا کل اللہ کے تابع ہونا چاہیے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
The commentary on this ayah is given with ayah 8:38.