Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 8:37 Prev 8:35


Arabic

إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ يُنفِقُونَ أَمۡوَٰلَهُمۡ لِيَصُدُّواْ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِۚ فَسَيُنفِقُونَهَا ثُمَّ تَكُونُ عَلَيۡهِمۡ حَسۡرَةٗ ثُمَّ يُغۡلَبُونَۗ وَٱلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ إِلَىٰ جَهَنَّمَ يُحۡشَرُونَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

جن لوگوں نے حق کو ماننے سے انکار کیا ہے وہ اپنے مال خدا کے راستے سے روکنے کے لیے صرف کر رہے ہیں اور ابھی اور خرچ کرتے رہیں گے مگر آخر کار یہی کوششیں ان کے لیے پچھتاوے کا سبب بنیں گی، پھر وہ مغلوب ہوں گے، پھر یہ کافر جہنم کی طرف گھیر لائے جائیں گے


English (Sahih International)

Indeed, those who disbelieve spend their wealth to avert [people] from the way of Allah. So they will spend it; then it will be for them a [source of] regret; then they will be overcome. And those who have disbelieved - unto Hell they will be gathered


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

This commentary covers ayaat 36 and 37.

آیت 36 اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَہُمْ لِیَصُدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ط۔قریش کی طرف سے لشکر کی تیاری ‘ سازو سامان کی فراہمی ‘ اسلحہ کی خریداری ‘ اونٹوں ‘ گھوڑوں اور راشن وغیرہ کا بندوبست بھی اس قسم کے انفاق فی سبیل الشیطان اور فی سبیل الشرک کی مثال ہے۔ وہ لوگ گویا شیطان کے راستے کے مجاہدین تھے اور اللہ کی مخلوق کو اس کے راستے سے روکنا ان کا مشن تھا۔ فَسَیُنْفِقُوْنَہَا ثُمَّ تَکُوْنُ عَلَیْہِمْ حَسْرَۃً ثُمَّ یُغْلَبُوْنَ ط۔ یہ خرچ کرنا ان کے لیے موجب حسرت ہوگا اور یہ پچھتاوا ان کی جانوں کا روگ بن جائے گا کہ اپنا مال بھی کھپا دیا ‘ جانیں بھی ضائع کردیں ‘ لیکن اس پوری کوشش کے باوجود محمد ﷺ کا بال بھی بیکا نہ کرسکے۔ ان کی یہ حسرتیں اس وقت اور بھی بڑھ جائیں گی جب وَقُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَزَہَقَ الْبَاطِلُط اِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَہُوْقًا۔ بنی اسرائیل کی تفسیر عملی طور پر ان کے سامنے آجائے گی اور وہ مغلوب ہو کر اہل حق کے سامنے ان کے رحم و کرم کی بھیک مانگ رہے ہوں گے۔وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اِلٰی جَہَنَّمَ یُحْشَرُوْنَ یعنی ان میں سے جو لوگ ایمان لے آئیں گے اللہ تعالیٰ انہیں معاف کر دے گا ‘ اور جو کفر پر اڑے رہیں گے اور کفر پر ہی ان کی موت آئے گی تو ایسے لوگ جہنم کا ایندھن بنیں گے۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 36 and 37.

انسانوں میں کچھ پاک ہیں اور كچھ ناپاک۔ کچھ روحوں کی غذا وہ چیزیں ہوتی ہیں جو خدا کو پسند ہیں اورکچھ روحوں کو ان چیزوں میں لذت ملتی ہے جو ان کے نفس کو یا شیطان کو مرغوب ہیں۔

عام حالات میں یہ دونوں قسم کے لوگ ایک دوسرے سے ملے رہتے ہیں۔ بظاہر ان میں کوئی فرق دکھائی نہیں دیتا۔ اس ليے اللہ تعالیٰ لوگوں کے درمیان حق وباطل کی کش مکش برپا کرتاہے تاکہ دونوں قسم کے لوگ ایک دوسرے سے الگ ہوجائيں اور یہ معلوم ہوجائے کہ کون کیا تھا اور کون کیا نهيں تھا۔

اس کش مکش کے دوران کھل جاتاہے کہ کون حق کے سامنے آنے کے بعد فوراً اس کو مان لیتاہے اور کون وہ ہے جو اس کا انکار کردیتاہے۔ کون دوسروں کے ساتھ معاملہ پڑنے پر انصاف کی حد پر قائم رہتاہے اور کون بے انصافی پر اترآتا ہے۔ کون خدا کی زمین میںمتواضع بن کر رہتاہے اور کون سرکش بن کر۔ کون سچائی کی راه میں اپنا مال خرچ کرنے والا هے اور کون تعصب اورنمائش کی راہ میں۔

جو لوگ حق کو چھوڑ کر دوسری راہوں میں اپنی کوششیں صرف کرتے ہیں ان کے اس عمل کو شیطان ان کی نظر میں اس طرح حسین بناتارہتا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ اعلیٰ کارنامے انجام دے رہے ہیں، وہ شان دار مستقبل کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ مگر اس غلط فہمی کی عمر بہت تھوڑی ہے۔ بہت جلد آدمی پر وہ وقت آجاتا ہے جب کہ وہ جان لیتا ہے کہ اس نے جو کچھ کیا وہ صرف اپنی قوت اور اپنے مال کو ضائع کرنا تھا، وہ جس مستقبل کی طرف بڑھ رہا تھاوہ حسرت اور مایوسی کا مستقبل تھا، اگر چہ جھوٹی خوش فہمی کے تحت وہ اس کو روشن مستقبل کی طرف سفر کے ہم معنیٰ سمجھتارہا تھا۔

بے آمیز حق کی دعوت اٹھتی ہے تو وہ تمام لوگ اپنے اوپر اس کی زد پڑتی ہوئی محسوس کرتے ہیں جو ملاوٹی دین کی بنیاد پر سرداری قائم كيے ہوئے تھے۔ وہ اس رواجی ڈھانچہ کی حفاظت میں اپنی ساری طاقت خرچ کردیتے ہیں جس کے اندر انھیں بڑائی کا مقام حاصل ہے۔ مگر ایسے لوگ بے آمیز حق کے مقابلہ میں لازماً ناکام ہوتے ہیں، کبھی دلیل کے میدان میں اور کبھی اسی کے ساتھ عمل کے میدان میں بھی۔

موجودہ دنیا کے ہنگامے صرف اس ليے جاری كيے گئے ہیں کہ پاک روحوں اور ناپاک روحوں کو ایک دوسرے سے الگ کردیا جائے۔ یہ چھانٹنے کا عمل جب پورا ہوجائے گا تو خدا پاک روحوں کو جنت میں داخل کردے گا اور ناپاک روحوں کو ایک ساتھ جمع کرکے جہنم میں دھکیل دے گا۔


Connections

  • Previous: 8_35
  • Next: 8_37
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes